اس نازک دور میں نیٹو کو ترکی کے ساتھ لازماً اظہارِ یکجہتی کرنا ہوگا، صدر ایردوان

0 267

نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی واحد ملک ہے جو داعش کے خلاف لڑ رہا ہے اور 36 لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، اور کہا کہ "ہم اپنے تمام اتحادیوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد میں ترکی کی بھرپور مدد کریں کہ جس میں وہ بڑی قربانیاں دے رہا ہے۔ نیٹو بہت نازک دور سے گزر رہا ہے کہ جس میں اسے واضح طور پر اظہارِ یکجہتی کرنا ہوگا۔”

صدر رجب طیب ایردوان اور نیٹو سیکریٹری جنرل ینس اسٹولٹن برگ نے ملاقات کے بعد برسلز میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

"کوئی یورپی ملک شام میں انسانی بحران کے حوالے سے غافل نہیں رہ سکتا”

نیٹو سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ کے ساتھ ملاقات کے دوران شام کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ شام کے ساتھ ملنے والی ترکی کی سرحد نیٹو کی جنوب مشرقی سرحد بھی ہے، اور کہا کہ "کوئی یورپی ملک شام میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران سے غافل نہیں رہ سکتا۔ ہمیں شامی مسئلے کے حوالے سے اپنی کوششوں میں مزید اضافہ کرنا ہوگا۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی داعش کے خلاف لڑنے اور 36 لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کرنے والا واحد ملک ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم اپنے تمام اتحادیوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد میں ترکی کی بھرپور مدد کریں کہ جس میں وہ بڑی قربانیاں دے رہا ہے۔ نیٹو بہت نازک دور سے گزر رہا ہے کہ جس میں اسے واضح طور پر اظہارِ یکجہتی کرنا ہوگا۔”

"ہمارے اتحادیوں کو ترکی کے ساتھ بلا امتیاز اظہارِ یکجہتی کرنا ہوگا”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی اور نیٹو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ نیٹو ترکی کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف اُس کی جنگ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ اس کے علاوہ ہمارے اتحادیوں کو ترکی کے ساتھ بلاامتیاز اور بغیر کسی سیاسی شرط کے اظہارِ یکجہتی کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں یہ بہت ضروری ہے کہ ہم جس مدد کی درخواست کر رہے ہیں وہ بلاتاخیر فراہم کی جائے۔ میرا ماننا ہے کہ آئندہ عرصے میں کچھ ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس کے لیے سیکریٹری جنرل کا شکریہ۔”

تبصرے
Loading...