نیٹو ترکی کی سپورٹ بڑھائے گا، سٹولٹن برگ

0 163

نیٹو اتحادیوں نے ترکی کی سپورٹ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، اور بلاک کے سیکریٹری جنرل جینس سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ انقرہ کی سلامتی نیٹو اتحاد کی سلامتی کے مترادف ہے۔

ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دہشت گردی کے خلاف ترکی کے کردار کو سراہتے ہوئے سٹولٹن برگ نے کہا کہ ترکی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گو کہ روس سے S-400 ڈیفنس سسٹم خریدنا ملک کا ذاتی فیصلہ تھا، لیکن اسے نیٹو کے اپنے دفاعی نظام میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اس مسئلے کے حل کے متبادل طریقے تلاش کرنے چاہئیں۔

دریں اثناء، چاؤش اوغلو نے کہا کہ انقرہ مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے حقوق کا تحفظ کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ "میں مصالحانہ کردار پر نیٹو کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ترکی نیٹو اتحادیوں کے مابین تصادم نہیں چاہتا۔ حالانکہ آغاز میں یونان منفی رویے کا حامل تھا، لیکن اب وہ مذاکرات کا حصہ بن رہا ہے اور ہم اس کو سراہتے ہیں۔”

نگورنو-قاراباخ کے مسئلے پر چاؤش اوغلو نے کہا کہ "آرمینیا نے آذربائیجان کی شہری آبادیوں پر میزائل داغنے شروع کر دیے ہیں۔ یہ ایک جنگی جرم ہے ۔” البتہ ان کا کہنا تھا کہ آرمینیا کی جانب سے عام شہری آبادی پر حملے کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ وہ پہلے بھی کئی بار ایسا کر چکا ہے، جس میں جولائی میں ہونے والا تازہ حملہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اب ہم ایک مرتبہ پھر دیکھ رہے ہیں کہ آرمینیا آذربائیجان کے دوسرے سبس ے بڑے شہر گنجہ میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔”

سٹولٹن برگ نے بھی شہری ہلاکتوں پر خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ نیٹو نگورنو-قاراباخ میں کشیدگی کے خاتمے میں مدد دے گا۔ "ہم صورت حال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ فریقین کو فوراً حملے روک دینے چاہئیں۔ نگورنو-قاراباخ کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ” انہوں نے کہا کہ وہ ترکی سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اس کشیدگی کو کم کروائے گا۔”

چاؤش اوغلو نے آرمینیا کے حامیوں پر کڑی تنقید کی کہ جو گزشتہ 30 سال سے اس ناجائز قبضے پر اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "فرانس کھلے عام آرمینیا کی حمایت کرتا ہے ۔”

ان دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہ ترکی آذربائیجان کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، چاؤش اوغلو نے کہا کہ ترکی تب مدد فراہم کرے گا، جب آذربائیجان مطالبہ کرے گا۔

دونوں سابق سوویت ریاستوں کے مابین تعلقات 1991ء سے کشیدہ ہیں، جب آرمینیا کی فوج نے عالمی طور پر تسلیم شدہ آذربائیجانی علاقے نگورنو-قاراباخ پر قبضہ کر لیا تھا۔

حالیہ کشیدگی کا آغاز 27 ستمبر کو ہوا اور لڑائی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی مطالبات پر اب تک عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

1992ء میں اس مسئلے کو پرامن انداز میں حل کرنے کے لیے آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (OSCE) کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن اب تک اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

تبصرے
Loading...