تقریباً 80 لاکھ شامی باشندے کروناوائرس کے خطرے سے دوچار ہیں، اقوامِ متحدہ

0 298

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا ہے کہ تقریباً 80 ملین شامی باشندے غذائی عدم تحفظ کا شکار اور COVID-19 کے خطرے سے دوچار ہیں، اور زور دیا ہے کہ مہاجرین سے بھرے ہوئے کیمپوں میں خطرات موجود ہیں۔

جنیوا میں ایک وڈیو بریفنگ دیتے ہوئے ایجنسی کی ترجمان ایلزبتھ بیرس نے کہا کہ جنگ سے متاثرہ ملک شام میں دسمبر 2019ء سے اب تک 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ "یہ لوگ اب حد سے زیادہ بھرے ہوئے کیمپوں میں مقیم ہیں کہ جہاں COVID-19 کا پھوٹ پڑنا سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔”

بیرس نے کہا کہ شام میں کروناوائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور اسے محدود کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ "WFP اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہا ہے کہ امداد محفوظ ترین انداز میں مستحق افراد تک پہنچے۔”

ان کا کہنا تھا کہ شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں حالات بدستور کشیدہ ہیں لیکن پہلے کے مقابلے میں کچھ سکون ضرور ہو گیا ہے۔ "شمال مغربی شام میں WFP اور اس کے شریک اداروں کا عملہ 17 لاکھ افراد کو خوراک فراہم کر رہا ہے۔ اور WFP کے لیے ضروری ہے کہ وہ ترکی سے سرحد پار آپریشن کے ذریعے یہ مدد جاری رکھے۔”

اقوام متحدہ کی ایجنسی اور اس کے ساتھی ادارے COVID-19 کو محدود رکھنے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں جیسا کہ ہاتھ دھونے کی حوصلہ افزائی اور خوراک تقسیم کے مقامات پر سماجی فاصلے کےحوالے سے شعور اجاگر کرنا۔

تبصرے
Loading...