مہاجرین کا بحران حل کرنے کے لیے یورپی یونین اور ترکی کے مابین نیا معاہدہ بہت ضروری ہو گیا ہے، ترک وزیر خارجہ

0 268

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے مہاجرین کے حوالے سے یورپی یونین کے ساتھ ایک نئے معاہدے کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مہاجرین کے لیے محض رقوم وصول کرنے سے کہیں آگے کا معاملہ ہے اور ترکی امید کرتا ہے کہ وہ رواں ماہ کے اختتام سے پہلے ایک نئے معاہدے تک پہنچ جائے گا۔

انادولو ایجنسی کے ایڈیٹرز ڈیسک پر براہ راست گفتگو کرتے ہوئے چاؤش اوغلو نے ادلب میں جاری بحران کے باوجود ترکی کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کرنے پر یورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین مہاجرین کی آمد کا نیا سلسلہ شروع ہونے کو تو روکنا چاہتی ہے لیکن اس کے لیے کوئی مدد نہیں دینا چاہتی۔ "آج کے مہاجرین کی ضروریات 2016ء کی صورت حال سے کہیں مختلف ہیں۔ ترکی نئی شرائط کے تحت اس معاملے کو نمٹانا چاہتا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کے بحران کو حل کرنے کے لیے یورپی یونین کی ترک شہریوں کے لیے ویزا آزادی اور کسٹمز یونین کو اپڈیٹ کرنے کا نفاذ بہت ضروری ہے۔

چاؤش اوغلو نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کو عالمی سطح پر ایک نمایاں کردار بننے کے لیے ترکی کی جتنی ضرورت ہے اُتنی خود ترکی کو یورپی یونین کی نہیں، کیونکہ یورپ کی سرحدیں ترکی کی جنوبی اور مشرقی سرحدوں سے شروع ہوتی ہیں۔ "ہم یورپی یونین کی نئی انتظامیہ کی جانب سے ترکی کے حوالے سے اٹھائے گئے چند اقدامات کی بدولت اب ان کے ساتھ مذاکرات کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔”

مارچ 2016ء میں انقرہ اور برسلز نے بحیرۂ ایجیئن کے خطرناک راستے پر مہاجرین کی تعداد کو گھٹانے اور یورپی یونین کے ممالک کی جانب گامزن مہاجرین کے لیے کوئی حل تلاش کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے کے تحت ترکی کو مالی مدد کی صورت میں 6 ارب یوروز (6.77 ارب ڈالرز) کی ادائیگی کا وعدہ کیا گیا تھا، جسے ابتدائی طور پر دو مرحلوں میں ادائیگی کے لیے تیار کیا گیا تھا اور ترک حکومت انہیں شامی مہاجرین کے لیے مالیاتی منصوبوں میں استعمال کرتی۔ اس معاہدے کے تحت ترک شہریوں کے لیے ویزا آزادی بھی شامل تھی۔ آخر میں کسٹمز کو اپڈیٹ کیا جانا تھا۔

ان وعدوں کے بعد ترکی نے انسانی اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے بحیرۂ ایجیئن کے ذریعے ہجرت کی حوصلہ شکنی کی ذمہ داری اٹھائی اور ملک میں رہنے والے شامی مہاجرین کے حالات کو بہتر بنایا۔ ہجرت کو قابو کرنے کے معاملات میں زبردست پیش رفت کے باوجود یورپی یونین نے معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

تبصرے
Loading...