نیا صنعتی روڈ میپ ترکی کو ایک اہم کردار بنانے میں مدد دے گا

0 470

ترکی نے 2023ء کے لیے نیا صنعتی و ٹیکنالوجی روڈ میپ پیش کردیا ہے جو ملک کو اہم ٹیکنالوجی میں مسابقت کرنے والا اور عالمی منظرنامے پر اہم کردار بنانے میں مدد دے گا۔ حکومت اس طریقے سے کل مقامی پیداوار (GDP) میں مینوفیکچرنگ صنعتوں کا حصہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ برآمدات میں اضافے کا ہدف بھی رکھتی ہے۔ وزارت صنعت و ٹیکنالوجی نے پانچ اہم جز اور 23 ذیلی پالیسیاں مرتب کی ہیں۔ یہ اعلان وزیر صنعت و ٹیکنالوجی مصطفیٰ وارانک نے دارالحکومت انقرہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا کہ جس میں 2023ء کے لیے ترکی کی صنعت و ٹیکنالوجی کی حکمت عملی کا اعلان کیا گیا۔

مصطفیٰ وارانک نے ہائی ٹیکنالوجی اور جدت، ڈجیٹل تبدیلی و صنعتی حرکت، انٹریپرینیورشپ، انسانی سرمائے اور بنیادی ڈھانچے کو بنیادی جز قرار دیا۔

ترکی 2023ء تک مل کے جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ بڑھانے پر نظریں جمائے ہوئے ہے، وارانک نے کہا۔ "ہمارا ہدف اس حصے کو بڑھانا ہے، جو گزشتہ دہائی میں 16.5 فیصد تھا، اور 2023ء تک اسے 21 فیصد کرنا ہے۔ ہم مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی درآمدات کو 210 ارب تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس طرح ہمیں امید ہے کہ مینوفیکچرنگ میں میڈیم اور ہائی ٹیک مصنوعات کا درآمدی حصہ 50 فیصد تک جائے گا۔”

جی ڈی پی میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر اخراجات 1.8 فیصد تک پہنچیں گے۔ "ہم اس شعبے میں انسانی وسائل کو 3,00,000 اور محققین کو 2,00,000 تک پہنچائیں گے۔”

ترکی امید کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباری اداروں میں 2023ء تک سرمایہ کاری کو 5 ارب ترک لیرا تک جائے گا۔ "ہم چاہتے ہیں کہ ملک کم از کم 23 اسمارٹ مصنوعات تیار کرے کہ جو عالمی برانڈز بن جائیں۔”

دنیا بھر میں 1 ارب ڈالرز سے زیادہ کی مالیت رکھے والے نجی اسٹارٹ اپس کی تعداد 300 ہے۔ ان اسٹارٹ اپس کو یونی کورن کہا جاتا ہے کہ جن کا حوالہ دیتے ہوئے مصطفیٰ وارانک نے کہا کہ "آئیں اپنے ملک میں یونی کورن تشکیل دیں اور انہیں کامیاب بنائیں۔” انہوں نے ترکی کے یونیک ورنز کو "ٹرکورنز” (TurCorns) کا نام بھی دیا۔

ملک 2023ء تک ایسے 10 "ٹرکورنز” رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق اور اہم منصوبوں کے لیے ایک انسٹیٹیوٹ بھی بنایا جا رہا ہے۔

تبصرے
Loading...