نئی استنبول-ازمیر شاہراہ سے سفر کا دورانیہ آدھا رہ جائے گا

0 458

اس اختتامِ ہفتہ سے ترکی کے دو بڑے شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ آدھا رہ جائے گا اور اتوار کو افتتاح کے ساتھ ہی عوام آٹھ کے بجائے ساڑھے تین گھنٹے میں منزل تک پہنچ جائیں گے۔ صدر رجب طیب ایردوان ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کو بحیرۂ ایجیئن کے ساحل پر واقع ازمیر سے ملانے والی 192 کلومیٹر طویل نئی شاہراہ کا افتتاح کریں گے۔

وزیر ٹرانسپورٹ و انفرا اسٹرکچر جاہد طورخان نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ اس اتوار کو افتتاح کے ساتھ ہی استنبول-ازمیر شاہراہ ترکی میں نقل و حمل کے اہم ترین راستوں میں شامل ہو جائے گی کہ جس سے مرمرہ کا علاقہ ایجین، مغربی بحیرۂ رومی اور مغربی اناطولیائی علاقوں سے مل جائے گا۔ 2016ء میں مکمل ہونے والے اس منصوبے کے اہم حصے عثمان غازی پُل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس پُل نے سفر کے دورانیے میں ڈیڑھ گھنٹے کی کمی کی۔

تقریباً 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بننے والی یہ شاہراہ دو شہروں کے درمیان سفر کرنے والی گاڑیوں کے لیے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوگی۔

بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (BOT) کی بنیاد پر بننے والی استنبول-بورصہ-ازمیر ہائی وے کُل 426 کلومیٹر طویل ہے جس میں 384 کلومیٹر ہائی وے اور 42 کلومیٹر ذیلی شاہراہیں ہیں۔

اب تک 201 کلومیٹر ہائی وے اور 33 کلومیٹر ذیلی شاہراہیں کھولی جا چکی ہیں۔ 192 کلومیٹر طویل سیکشن، جس میں 183 کلومیٹر مرکزی شاہراہ اور 9 کلومیٹر منسلک روڈ شامل ہے، کا افتتاح اتوار کو سہ پہر تین بجے ایک تقریب میں ہوگا کہ جس میں صدر ایردوان شرکت کریں گے۔

اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کا استنبول اور ازمیر کے درمیان سفر کا دورانیہ اس وقت ساڑھے 8 گھنٹے ہے، طورخان نے زور دیا کہ نئی 404 کلومیٹر استنبول-ازمیر ہائی وے کے ذریعے عام حالات میں دونوں شہروں کے درمیان ساڑھے 4 گھنٹے میں سفر ممکن ہوگا۔

"یہ شاہراہ بالخصوص ہماری صنعتی اور زرعی مصنوعات کی ترکی اور بیرونِ ملک ترسیل میں آسانی فراہم کرے گی۔” وزیر نے کہا۔ استنبول اور ازمیر کے درمیان شاہراہ اس وقت 515 کلومیٹر طویل ہے، جس کی بات کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ نئی شاہراہ دو شہروں کا فاصلہ گھٹا کر 404 کلومیٹر کردے گی۔

طورخان نے کہا کہ 5000 ہزار افراد اس کی تعمیر میں شریک رہے اور تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد تقریباً ایک ہزار افراد کو دیکھ بھال اور آپریشنز کے کاموں میں ملازمت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر اب تک 7 ارب ڈالرز خرچ کیے جا چکے ہیں کہ جو اسے بنانے اور آئندہ چلانے والی کمپنی نے لگائے ہیں، اس پر کوئی سرکاری ذرائع استعمال نہیں کیے گئے۔

تبصرے
Loading...