قطر میں نئے فوجی اڈے کا افتتاح رواں سال ہوگا

خاندہ فرات

0 1,286

"تمہارے پیچھے سمندر ہے اور سامنے دشمن۔ واپس جانے کا اب کوئی راستہ نہیں۔” 711ء میں اپنے فوجیوں کے دل سے دشمن کا خوف نکالنے کے لیے طارق ابنِ زیاد نے اپنی کشتیاں جلا دی تھیں اور یہ تاریخی کلمات ادا کیے تھے۔ آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں انہی کے نام سے ایک فوجی اڈہ موسوم ہے۔ اس فوجی اڈے پر ترک فوجی بھی ہیں۔ میں نے بھی دوحہ کا سفر کیا اور طارق ابن زیاد بیس کا دورہ کیا۔ یہاں ترک مسلح افواج کے کمانڈر کرنل مصطفیٰ آئیدین نے مجھے ابن زیاد کے بارے میں بتایا۔

مذکورہ فوجی اڈے پر ترک فوجی اکتوبر 2015ء میں تعینات کیے گئے تھے تاکہ وہ ترکی اور قطر کے باہمی عسکری تعلقات کے سلسلے میں علاقائی امن کے لیے اپنا حصہ ادا کر سکیں۔ دسمبر 2017ء میں اسے قطر-ترکی کمبائنڈ جوائنٹ فورس کمانڈ کا نام دیا گیا تھا۔

ترک اور قطری سپاہی مشترکہ تربیتی پروگرام تیار کرتے اور فوجی مشقیں کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات میں جو گرمجوشی ہے، وہ ان کے فوجی تعلقات میں بھی نظر آتی ہے۔ عید الاضحیٰ کی تعطیلات میں دونوں ممالک کے فوجیوں نے ملاقاتیں کیں اور مبارکبادوں کا تبادلہ کیا، جیسا کہ وہ ہر تہوار پر کرتے ہیں۔ ترک فوجیوں نے چاکلیٹس پیش کیں جبکہ قطری فوجیوں نے ناشتے کا اہتمام کیا۔ قطریوں نے فوجی اڈے میں بھی ترکوں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کیا۔ فوجیوں نے ایک دوسرے کی زبانوں میں مبارکبادیں بھی پیش کیں۔

قطر میں موجود ترکی کا مستقل اڈہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

ایسے مقام پر ترکی کا فوجی اڈہ ہونا خلیج اور مشرق وسطیٰ کی سیاست اور توانائی کے معاملات میں اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ وہ ایران اور سعودی عرب کے حوالے سے توازن پیدا کرنے والی طاقت بھی بن چکا ہے۔ قطر، جو خود بھی ایک بڑی اقتصادی طاقت ہے، دنیا میں قدرتی گیس کے تیسرے سب سے بڑے ذخائر رکھتا ہے۔ اس کی واحد زمینی سرحد سعودی عرب سے ملتی ہے۔

خلیج میں تب ایک بحران نے جنم لیا جب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرلیے تھے اور 5 جون 2017ء کو ایک معاشی گھیراؤ کرلیا تھا۔ سعودی عرب کی زیر قیادت ریاستوں نے 23 جون 2017ء کو 13 نکاتی مطالبات پیش کیے، جن میں قطر سے ترکی کے ساتھ فوجی تعلقات ختم کرنے اور ترک فوجی اڈہ بند کرنے کا بھی کہا گیا۔

تزویراتی طور پر اہم

جب ہم خطے میں توانائی کی جنگوں، ایران کے حوالے سے امریکا کے ایجنڈے، ایران کی جانب سے اپنی شیعہ آبادی کو استعمال کرنے کے ممکنہ اقدامات اور خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب کی جانب سے ترکی کے حوالے سے علانیہ و غیر علانیہ آپریشنز کو، دیکھتے ہیں تو ہمیں قطر میں ترک فوجی اڈے کی اہمیت کا بہتر اندازہ ہو سکتا ہے۔

مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سے "عقل مند” تھے جنہوں نے سعودی مطالبات کی فہرست میں "ترک فوجی اڈے کی بندش اور قطر کے اندر ترکی کے ساتھ فوجی تعاون ختم کرنے” کا حصہ شامل کیا تھا۔ لیکن میں اس حقیقت پر ضرور توجہ دلاؤں گا کہ امریکا عبید ایئر بیس پر تقریباً 14 ہزار فوجی رکھتا ہے۔

مجموعی طور پر خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب، ترک-قطری تعاون پر پریشان ہیں۔ اس کے برعکس ترکی ایک دیرپا سکیورٹی ڈھانچہ اور ایک فوجی و سیاسی حلقہ اثر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

قطر میں ترک فوجیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے

قطر میں فوجی اڈہ بڑا ہوتا جا رہا ہے۔ طارق ابن زیاد ملٹری بیس کے قریب ہی ایک نیا اڈہ بن رہا ہے۔ اس بڑے اڈے کہ جس میں کئی سماجی سہولیات موجود ہیں، کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ یہاں فوجیوں کی تعداد بڑھے گی۔ میں ترکی کے مفادات اور سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے تعداد تو نہیں بتا رہا، لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک غیر معمولی تعداد کو جا پہنچے گی۔ قطر اس فوجی اڈے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ وہ موسمِ خزاں میں ایک "عظیم افتتاحی تقریب” کی بات کر رہا ہے۔ افتتاحی تقریب میں قطری امیر اور صدر رجب طیب ایردوان کی شرکت متوقع ہے۔

تبصرے
Loading...