ترکی کے سول ملٹری تعلقات کا نیا ماڈل

0 3,612

اسلامی دنیا میں ترکی، پاکستان اور مصر کو سول ملٹری تعلقات میں سنجیدہ بحران کا سامنا رہا ہے جس کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام سے اِن ممالک کی معاشی اور سماجی ترقی پر بہت بُرے اثرات مرتب ہوتے چلے آئے ہیں۔ ترکی بہرحال ان مسائل سے آگے نکل چکا ہے۔ ایسا نہیں کہا جا سکتا ہے کہ رجب طیب ایردوان کی کارگردگی کی وجہ سے فوج کو کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا سامنا رہا ہے بلکہ ابتدائی دور سے انہیں مزاحمت کا سامنا رہا جس کا انہوں نے کامیابی سے مقابلہ کیا۔ خاص طور پر جب انہوں نے صدارتی عہدے کو مکمل طور پر سیاسی کرنے کا فیصلہ کیا تو فوجی کمانڈ کی طرف سے سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے راتوں رات عبداللہ گل کو صدارتی میدان میں اتار کر فوج کو کسی بھی پیش قدمی سے دور رکھا۔ 2008ء اور پھر 2016ء کی بغاوتیں بھی فوج کے اندر سے اٹھیں جسے انہوں نے ناکام بنا دیا۔

15 جولائی 2016ء کی بغاوت میں ایردوان کی کامیابی میں ترک عوام اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل حلوصی آقار کا بہت نمایاں کردار رہا ہے۔ انہیں باغی کمانڈروں نے انقرہ کے ائیربیس پر یرغمال بنا لیا اور بغاوت کے آرڈر پر دستخط کرنے کے لیے زور ڈالا جسے انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ اس دوران انہیں اپنے ہی کمانڈروں کی طرف سے تشدد کا سامنا بھی رہا۔ لیکن انہوں نے ایردوان کی حکومت کے خلاف فتح اللہ گولن اور ان کے پیروکار کمانڈروں کی سازش میں ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔

ترک صدر ایردوان نے ان کی اس قربانی اور استقامت کا اچھا صلہ دیا اور صدارتی نظام کے نفاذ کے بعد انہیں وزیردفاع بنا دیا۔ بظاہر یہ ایردوان کا صلہ ہے لیکن ترکی میں سول ملٹری تعلقات میں توازن پیدا کرنے کا ایک اہم قدم ثابت ہوا ہے۔ ترک فوج کا اپنا سابق آرمی چیف ایک عوامی حکومت کے ساتھ بیٹھ کر دفاعی فیصلوں کا حصہ دار ہی نہیں احکامات جاری کرنے والا بنتا ہے۔

جنرل حلوصی آقار، عثمانی اور دینی رجحانات رکھنے والے ہیں۔ ان کی بیوی نے چند سال قبل باقاعدہ حجاب لینا شروع کیا۔ وہ عثمانی نظریات پر فخر کرتے ہیں۔ ترک صدر ایردوان کے سیاسی ویژن پر انہیں اعتماد ہے۔ گذشتہ دنوں انہیں ترکی کے شہر قیصری میں براہ راست آق پارٹی کے جلسے میں بطور وزیردفاع سننے کا اتفاق ہوا۔ وہ آق پارٹی کے کیبنٹ ممبر کے طور پر خطاب کرتے دیکھے گئے۔ جب ترک صدر ایردوان آپریشن چشمہ امن پر ترک فوج کو اسٹیج پر سلام پیش کر رہے تھے تو وہ ترک صدر کو سلامی کر رہے تھے۔ عوامی قیادت اور فوجی نمائندے کے درمیان اس قدر ہم آہنگی اور احترام کے جذبات کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملیں گے۔

اس خوبصورت ماڈل میں پاکستان کے سول ملٹری تعلقات کے لیے کیا پیغامات ہیں؟ پاکستانی سیاست میں فوج کے نہ چھپے رہنے والی دخل اندازی نے ملک کے سیاسی نظام کو ہمیشہ سے عدم استحکام کا شکار بنائے رکھا ہے۔ خصوصاً گذشتہ حکومت کے خلاف جس طرح کھل کرفوج نے اثراندازی کی کوشش کی وہ دنیا سے چھپی نہیں رہ سکی۔ لیکن حالیہ حکومت اور فوج میں اعتماد کی فضاء قائم ہے۔ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے البتہ اس پیج کے کتنے حصے پر فوج اور کس جگہ پر حکومت موجود ہے اسے دیکھنے کے لیے حکومت کی مارکیٹ دشمن پالیسیاں اور ملک کے سیاسی نظام پر عالمی اور مقامی سرمایہ کاروں کا خوف دیکھ لینا کافی ہے۔ کیا پاکستان ترکی کے اس ماڈل سے کچھ سیکھنے کی خواہش رکھتا ہے؟ اگر تو وہ کچھ سیکھتا ہے تو وہ ترقی میں ترکی سے آگے پہنچنے کا بھرپور پوٹینشل رکھنے والا ملک ہے اور اگر نہیں سیکھنا چاہتا تو ڈھلوان کی ایسے راستے کا انتخاب کرے گا جو بنگلہ دیش، بھارت اور چین جیسی دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے جنوب ایشیائی خطے میں اسے ایک مرد بیمار بنا کر رکھ دے گا۔

تبصرے
Loading...