ترکی کا نیا فوجی قافلہ ادلب پہنچ گیا

0 186

ترکی کا ایک بڑا فوجی قافلہ شمال مغربی شام کے صوبہ ادلب میں داخل ہو گیا ہے۔

50 گاڑیوں پر مشتمل اس قافلے کے ساتھ سیرین نیشنل آرمی (SNA) کے دستے بھی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی شام کے سرحدی علاقوں میں اپنی موجودہ طاقت میں اضافے کے لیے اسپیشل فورسز تعینات کر رہا ہے۔

روس کی پشت پناہی رکھنے والے بشار اسد کی حکومت دسمبر سے جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور 2012ء سے حزبِ اختلاف کے پاس موجود ایک اہم شاہراہ پر قبضہ کرکے اسے دوبارہ کھولنے کے درپے ہے، حالانکہ پچھلے سال روس اور ترکی کے درمیان سیزفائر معاہدہ ہو چکا ہے۔

اسد رجیم کے دستوں نے پچھلے بدھ کو مراۃ النعمان جیسا اہم قصبہ دوبارہ حاصل کیا ہے اور ان کی نظریں سراقب پر ہیں۔ یہ اہم شاہراہ ان دونوں قصبوں سے گزرتی ہے۔

صوبہ ادلب 30لاکھ شہریوں کا مسکن ہے، جن میں سے کئی تشدد کی کارروائیوں کی وجہ سے دیگر علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں ہی 3,90,000 شامی – 3,15,000 دسمبر میں اور 75,000 جنوری میں – بے گھر ہو چکے ہیں۔

ترکی اس وقت 35 لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے اور ادلب میں تشدد کی حالیہ لہر کے بعد ترک سرحدوں کی جانب مہاجرین کی ایک اور لہر بڑھنے کا خدشہ ہے۔

تبصرے
Loading...