فوجی مارشل لاء کے بعد نیوزی لینڈ نے میانمار سے تعلقات منقطع کر دئیے

0 1,355

نیوزی لینڈ نے منگل کے روز میانمار کے ساتھ اعلی سطح کے فوجی اور سیاسی رابطوں کی معطلی کا اعلان کیا، جو میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد ملک کے فوجی حکمرانوں کو اکیلا چھوڑنے کا پہلا بڑا بین الاقوامی اقدام ہے۔

ان اقدامات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم جیکنڈا آرڈرن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ "میانمار میں ہونے والے واقعات کی بھرپور مذمت کریں”۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، "میانمار میں جمہوریت کی تعمیر کے لئے کئی سال محنت کرنے کے بعد، میں سمجھتی ہوں کہ جمہوری اداروں میں فوجیوں کے گھسنے کے بعد نیوزی لینڈ کے ہر فرد کو افسوس ہوا ہے۔”

"ہمارا مضبوط پیغام یہ ہے کہ ہم یہاں سے نیوزی لینڈ میں جو کچھ کر سکتے ہیں وہ ہم کریں گے۔”

آرڈرن نے کہا کہ ان اقدامات میں سینئر فوجی شخصیات کی سفری پابندی بھی شامل ہوگی۔

میانمار کی فوج نے گذشتہ ہفتے سویلین رہنما آنگ سان سوچی اور اس کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) پارٹی کے درجنوں دیگر ممبران کو حراست میں لے لیا تھا، جس سے عوامی اقتدار کی ایک دہائی پر طویل سفر کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

آرڈرن نے کہا کہ نیوزی لینڈ چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، میانمار میں ہونے والی پیشرفت پر تبادلہ خیال کے لئے خصوصی اجلاس بلائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میانمار میں نیوزی لینڈ کا امدادی پروگرام، جس کی مالیت تقریباً 42 ملین نیوزی لینڈ ڈالرز (30.5 امریکن ملین) ہے حفاظتی تدابیر کے ساتھ جاری رکھیں گے تاہم یقینی بنائیں گے کہ نہ وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور نہ یہ رقم فوجی حکمرانوں کی دسترس میں آ سکے۔

انہوں نے کہا، "ہم وہاں جو بھی امداد اور ترقیاتی کام کرتے ہیں وہ سب انتہائی محتاط طریقے سے کر رہے ہیں اور ہم اس حکومت کی نشو و نما نہیں کریں گے۔”

آرڈرن نے تسلیم کیا کہ نیوزی لینڈ نے میانمار کی فوج پر بہت کم خرچ کیا ہے اس پر سوچی نے ان کے ساتھ سابقہ ​​اجلاس میں ملک میں جمہوریت اقدار کی منتقلی میں نیوزی لینڈ کی طرف سے مدد پر ان کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے فوجی جنتا نے ایک سال کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد وقت کا تعین کیے بغیر وعدہ کیا گیا کہ ملک میں انتخابات کروائے جائیں گے۔

ایسا علان کرتے ہوئے فوجی جرنیلوں نے میانمار کے 10 سالہ جمہوری تجربے کا خاتمہ کر دیا جو 50 سال کی فوجی حکمرانی کے بعد شروع ہوا تھا۔

جرنیلوں نے نومبر کے انتخابات میں دھوکہ دہی کے دعوے کے ذریعہ بغاوت کو جواز پیش کیا، جسے این ایل ڈی بھاری اکثریت سے جیت گیا۔

نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ نانیا مہوتہ نے میانمار کے فوجی آمروں کی طرف سے دھوکہ دہی کے الزامات کو مسترد کردیا۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "ہم فوجی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت کے جواز کو تسلیم نہیں کرتے اور ہم فوج سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حراست میں لئے گئے تمام سیاسی رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کرے اور سویلین حکمرانی کو بحال کرے۔”

تبصرے
Loading...