ایشیا کا سب سے باصلاحیت مسلمان سیاست دان ۔۔۔ نظام الملک طوسیؒ

0 1,743

تحریر: سید خاور محمود

سلجوقی حکومت کا اہم ستونایک مکتب میں تین دوست ہم مکتب اور ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے۔ تینوں نے اپنی اپنی جگہ شہرت پائی اور کارہائے نمایاں انجام دیے۔ یہ تین دوست نظام الملک طوسی، عمر خیام اور حسن بن صباح تھے۔

نظام الملک نے اعلیٰ وارفع رفاہی، اصلاحی، تعمیری اور فوجی کام کیے۔ نظام حکومت اور ادب و تعلیم کو فروغ دیا۔ عمر خیام نے شعر و ادب اور علم جغرافیہ و ارضیات کے ماہر کی حیثیت پائی اور حسن بن صباح نام نہاد فتنہ پرداز جماعت فدائیاں، المعروف حشیشین، صباحین اور فرقۂ باطنیہ کا بانی اور پیر و مرشد تھا۔ اس جماعت نے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا اور مسلمان کئی فرقوں میں بٹ گئے…

نظام الملک طوسی جس کا پورا نام ابوعلی حسن ابن علی بن اسحاق تھا سلجوق خاندان کے سب سے مشہور بادشاہ ملک شاہ سلجوق کا وزیرِ اعلیٰ اور معتمد خاص تھا۔ طوسی جیسا باصلاحیت وزیر مسلم دنیا کا درحقیقت اثاثہ ہے جس کے بارے میں ممتاز مورخ ’فلپ کے ہیٹی‘‘ نے کہا کہ ’’اسلام کی سیاسی تاریخ کا یہ ہیرا ہے‘‘ ایک اور تاریخ داں امیر علی نے طوسی کو ’’ یحییٰ برمکی کے بعد دوسرا قابل ترین ایشیائی منتظم قرار دیا ہے۔‘‘

نظام الملک طوسی 10 اپریل 1018 کو طوس کے قریب رد خان نامی دیہات میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ غزنوی بادشاہوں کے پاس بحیثیت ریونیو آفیسر ملازم تھا۔ اس نے سلجوق شہزادے الپ ارسلان کے پاس 1054 میں ملازمت اختیار کرلی۔ الپ ارسلان کی تخت نشینی کے بعد اس کا وزیر مقرر ہوا۔ اس کا معتمد اور خاص آدمی تھا اور ارسلان کے ساتھ ہر مہم اور ہر سفر میں شریک رہا۔ وہ فوجی اور جنگی مہمات کا بھی انچارج رہا، منزگرد اور استغر کی مہم اس کی سربراہی میں سر ہوئی تھی۔ سلجوقی حکومت میں لگ بھگ بیس سال نظام الملک طوسی نے مکمل اختیارات کے ساتھ منظم و موثر انداز میں انتظامات سنبھالے اور زندگی کے بیش تر شعبوں خصوصاً درس و تدریس میں لا تعداد خدمات انجام دیں۔ سلجوقی نظم و نسق اور مستحکم حکومت کے پس پردہ نظام الملک طوسی کی ذہانت، صلاحیت اور مہارت تھی جس کے باعث مملکت میں امن وامان اور خوش حالی تھی۔

طبعاً وہ خوش مزاج اور ہنس مکھ تھا لیکن انتظامی امور میں سخت گیر مشہور تھا۔ تعلیم کا رسیا اور عالموں، فاضلوں، ادبا و شعرا کا قدر دان تھا ملک بھر کے مشاہیر، سیاست دان اور دانش ور اس کے گرد اکٹھا تھے۔

نظام الملک طوسی نے اپنے نام کی مناسبت سے نظامیہ درس کے انداز کی ملک بھر میں درس گاہوں کا جال بچھاتے ہوئے انہیں فروغ دیا۔ نیشاپور، خراسان، شام اور عراق بڑے علمی مراکز تھے۔ اس نے 1066 میں اسلامی دنیا کی پہلی عظیم نظامیہ یونی ورسٹی نیشاپور میں قائم کی۔ حکومتی معاملات، عوامی اور فوجی اصلاحات و انتظامات کے سلسلے میں وہ وقتاً فوقتاً سارے ملک کے دورے کرتا رہتا تھا اور بیشتر امورِ مملکت کا باریک بینی سے جائزہ لیتا اور کسی کو خطا کار پاتا توفی الفور سزا دیتا جس کے سبب وہ عوام میں مقبول بھی تھا۔

نظام الملک نے زائرین اور حاجیوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے جس کے باعث عراق سے مکہ و مدینہ کا سفر جدید سٹرک کی تعمیر کے سبب محفوظ اور سہولتوں سے بھرپور تھا۔ ہائر ایجوکیشن کے سلسلے میں درس نظامیہ کے اعلیٰ ادارے مرو، ہرات، بلخ اور اصفہان میں بھی قائم تھے جو کہ اسلامی دنیا میں ایسے ماڈل اسکول تھے جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ، دانش ور، ماہرینِ فنون درس و تدریس پر مامور تھے۔

امام غزالی بغداد یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے جب کہ شیخ مصلح الدین سعدی نے یہاں سے تعلیم حاصل کی تھی۔ مملکت کی کل آمدنی کا دسواں حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا تھا۔ نظام الملک طوسی نے مشہور شاعر، ماہرِ ارضیات و جغرافیہ اور اپنے دوست عمر خیام کے تعاون سے ’’جلالی کیلنڈر‘‘ کا اجرا کیا تھا۔ تعلیم پر خرچ کی جانے والی کثیر رقم کے مدنظر ایک بار ملک شاہ سلجوقی نے نظام الملک طوسی سے کہا ’’اے میرے معزز بزرگ۔ اس رقم سے آپ ایک بڑی فوج قائم کرسکتے ہیں‘‘ نظام الملک طوسی نے جواباً کہا ’’میرے بیٹے میں بوڑھا ہوگیا ہوں تم ابھی جوان ہو لیکن اگر بازار میں تمہیں فروخت کیا جائے تو شاید تیس دینار سے زیادہ کی بولی نہیں لگے گی مگر اللہ نے تمہیں بادشاہ بنایا ہے کہ تم اس کے شکر گزار نہیں بنو گے۔ تمہارے تیر اندازوں کے تیر تیس گز سے زیادہ دور نہیں جائیں گے لیکن میری تیار کردہ تعلیمی فوج کی دعائیں آسمان تک پہنچیں گی۔‘‘ یہ سن کر شاہ سلجوق نے بے ساختہ کہا ’’بے شک ہمیں بلا تاخیر ایسی ہی فوج تیار کرنی چاہیے‘‘ طوسی نے حکومت کے انتظامی امور، موزِ مملکت اور سیاسی دائو پیچ اپنے بادشاہ کو دکھانے کے لیے پچاس ابواب پر مشتمل تاریخی نوعیت کی اہم ترین کتاب ’’سیاست نامہ‘‘ 1091میں تحریر کی جس میں اس کے ذاتی تجربات شامل تھے، 1092 میں گیارہ ابواب کا اضافہ کیا گیا جس میں حکومت کو خاص طور پر اسمٰعیلی فرقے کے بڑھتے ہوئے اثرات اور خطرات سے خبر دار کیا گیا تھا کیوں کہ حسن بن صباح کے خاتمے کے بعد جانشینی کے ضمن میں اس کے پیرئوں نے دو فرقے بنالیے تھے۔

نظام الملک طوسی کی معاشرتی سماجی دینی اور مذہبی اصلاحات نے مسلمانوں کو بہت فائدے پہنچائے۔ نظام الملک کا ایک اور بڑا کارنامہ ملک بھر میں خصوصاً سیاسی، انتظامی، حکومتی اور افواج میں جاسوسی و مخبری کے نظام کو رائج کرکے اسے جدید اور عصری خطوط پر آراستہ کرنا ہے۔ مشاہیر اس امر پر متفق ہیں کہ نظام الملک کے اسی نظام کے باعث حسن بن صباح کے زور کو توڑا جا سکا اور بعد ازاں اسے کوہ طالقان کی وادی میں واقع ناقابل شکست قلعے کو تباہ کرکے شکست دی گئی تھی۔

نظام الملک طوسی نے ساری عمر خدمت اسلام اور فروغ تعلیم میں گزاری ۔ مشکلات کا سامنا کرتا رہا لیکن ہمت نہیں ہاری۔ اسے پہلا صدمے اس وقت ہوا جب 1091ء میں قرامطیوں نے المت کے قلعے اور شہر کو سلجوقیوں سے چھین لیا تھا۔ اس واقع کے بعد وہ پوری توجہ اور یک سوئی سے حسن بن صباح کے خاتمے کے درپے ہوا، جس کے نتیجے میں حسن بن صباح قتل ہوگیا لیکن اس کے ایک اور پیروکار نے جو خود کو صوفی کہلواتا تھا، انتقاماً نظام الملک طوسی کو جب کہ وہ بغداد جانے کے لیے صحرائے سینا سے گزر رہا تھا 4 اکتوبر 1092کو شہید کردیا اور یوں 74 سال کی عمر میں اسلامی دنیا کا یہ بلند قامت مصلح اللہ کو پیارا ہوگیا۔

تبصرے
Loading...