جس واقعے کا سامنا ترکی نے کیا ہے وہ مظہر ہے کہ دنیا کا کوئی ملک مزید سیاسی یا معاشی تحفظ نہیں رکھتا، ایردوان

0 1,399

انقرہ میں آق پارٹی کے صوبائی سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر اور آق پارٹی کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے کہا، "اگست میں ترکی کے اندر کوئی سیاسی عدم استحکام، جنگ، آفت یا کوئی بھی غیر معمولی صورتحال درپیش نہیں تھی۔ ایسی صورت حال کے ابھرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے امریکی انتظامیہ کے مطالبات کو پورا نہیں کیا ہے، جو ہمارے ملک کی خود مختاری کی صریح توہین تھے، یہ واضع کرتا ہے کہ یہ صرف سیاسی ایشو تھا۔ جس واقعے کا سامنا ترکی نے کیا ہے وہ مظہر ہے کہ دنیا کا کوئی ملک مزید سیاسی یا معاشی تحفظ نہیں رکھتا”۔

معاملہ معیشت کی حدود سے بالاتر تھا

ترک صدر نے امریکی انتظامیہ کی طرف سے ترکی کے خلاف منفی فیصلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "شرح سود اس لیے بڑھائی گئی ہے کہ اس سے واضع کیا جا سکے کہ اس میں معاشی عوامل تھے اور کوئی اور پُر دلیل وجہ تھی”۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے فوری بعد اس طرح کے معاشی حملے کر کے ان کا مقصد تھا کہ اسے انتخابات کے نتائج سے نتھی کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے قیمتوں کا تعین اور لیرا کی قدر میں کمی کرنا ترک معیشت کو قتل کرنے کی کوشش تھی۔

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا، "اگست میں ترکی کے اندر کوئی سیاسی عدم استحکام، جنگ، آفت یا کوئی بھی غیر معمولی صورتحال درپیش نہیں تھی۔ ایسی صورت حال کے ابھرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے امریکی انتظامیہ کے مطالبات کو پورا نہیں کیا ہے، جو ہمارے ملک کی خود مختاری کی صریح توہین تھے، یہ واضع کرتا ہے کہ یہ صرف سیاسی ایشو تھا۔ جس واقعے کا سامنا ترکی نے کیا ہے وہ مظہر ہے کہ دنیا کا کوئی ملک مزید سیاسی یا معاشی تحفظ نہیں رکھتا۔ اس کے فوری اثرات بعد میں یورپی یونین، چین اور بھارت میں ابھرے”۔

ترکی اس لہر پر قابو پا لے گا

صدر ایردوان نے پرائیویٹ سیکٹر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پیداوار اور سرمایہ کاری کو کسی صورت نہ روکیں، یہ اہم وقت ہے کہ ہم زیادہ سرمایہ کاری اور پیداوار دے کر برآمدات بڑھائیں۔ "ہمیں پیداوار، برآمدات اور نوکریوں کے ذریعے ان کو جواب دینا ہے جو ایکسچینج ریٹ کے ذریعے ترکی پر ضرب لگانا چاہتے ہیں”۔

انہوں نے کہا کہ ترکی بہت جلد اس لہر پر قابو پا لے گا لیکن اس سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ کون اس موقع سے فائدہ اٹھانے والا تھا اور کون اپنی قربانی دینے والا تھا۔

 

تبصرے
Loading...