اب کرد پی وائے جی کو مزید اسلحہ نہیں دیں گے، ٹرمپ کی صدر ایردوان کو فون کال

0 223
U.S. President Donald Trump meets with President Recep Tayyip Erdogan of Turkey during the U.N. General Assembly in New York, U.S., September 21, 2017. REUTERS/Kevin Lamarque

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ٹیلی فون پر وعدہ کیا ہے کہ امریکا اب کرد پی کے کے کی شامی شاخ وائے پی جی کو مزید اسلحہ فراہم نہیں کرے گا۔ یہ بات ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اوّلو نے میڈیا کو بتائی ہے۔

فون کال کے بعد میڈیا نمائندہ سے بات کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے ٹرمپ کے وعدے کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی زبانی کلامی وعدوں کے ساتھ اس کو عملدرآمد ہونا دیکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس راستے کو قطعا پسند نہیں کرتی جو شام میں اپنایا گیا ہے۔ امریکا نے وائے پی ڈی کی پشت پناہی کی ہے اور اس کی عسکری ونگ وائے پی جی کو بھاری مقدار میں اسلحہ دیا ہے۔

وزیرخارجہ نے بتایا کہ صدر ایردوان نے ٹرمپ کو بتایا کہ چھوٹے مسائل جیسے ویزا کی بندش جیسے معاملات ترکی اور امریکا کے درمیان "مسائل” نہیں سمجھے جا سکتے۔

فون کال کے بعد ترک صدر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے تصویر ٹویٹ کی اور لکھا کہ آج امریکا صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر "سیر حاصل” گفتگو ہوئی ہے

آج صبح امریکی صدر نے ٹویٹ کی تھی وہ مشرق وسطیٰ اور سوچی میں ہونے والی دو روزہ ترکی، ایران اور روس کی سہہ فریقی میٹنگ بارے بات چیت کرنے کے لیے ترک صدر ایردوان کو کال کریں گے۔


کام میں ٹرمپ نے ترکی میں امریکی سفارت خانے کے دو اہلکاروں کو فیتو سے تعلقات پر تحقیقات کے لیے گرفتاری کو بھی بھی موضوع بنا۔ جبکہ رجب طیب ایردوان نے اپنے 15 گارڈز جو مئی 2017ء میں ان کے دورہ امریکا میں ساتھ گئے ان پر مقدمہ چلانے کہا کہ یہ سرا سر غیر جمہوری عمل ہے۔
صدر ایردوان نے ٹرمپ پر واضع کیا کہ ترکی فیتو کے رہنما فتح اللہ گولن کی حوالگی چاہتا ہے جنہوں نے قومی اداروں میں نفوذ کیا اور ریاست سے بغاوت کی تھی۔

تبصرے
Loading...