کوئی بھی وباء ہمارے اتحاد و یگانگت سے بڑی نہیں ہے، صدر ایردوان

0 329

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "ہم پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے کیونکہ کوئی بھی وباء ہمارے اتحاد و یگانگت سے بڑی نہیں ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ایوانِ صدر میں ہونے والے صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

"ہمیں ماسک، فاصلہ اور حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگیوں کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا”

حالات کو معمول پر لانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "یہ تو صاف ظاہر ہے کہ ہم نے کم سے کم پابندیوں، اموات اور معاشی مسائل کے ساتھ اس وبائی مرض کا مقابلہ کیا، خاص طور پر اگر اس کا تقابل یورپ سے کیا جائے۔ ترکی اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھتا رہا ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر اس کا اظہار کروں گا کہ ہمیں ماسک، فاصلہ اور حفظانِ صحت کےاصولوں کے مطابق اپنی زندگیوں کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا یہاں تک کہ یہ مرض مکمل طور پر ختم ہو جائے۔”

صدر ایردوان نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "صرف ہمارے ملک کا ہی اس وباء کو شکست دینا کافی نہیں بلکہ باقی دنیا کو بھی یہی کارکردگی دکھانا ہوگی۔ اس سلسلے میں ہمیں اس حقیقت کو اپنانا ہوگا کہ جسے ہم ‘نیا معمول’ کہہ رہے ہیں، جو طویل عرصے چلے گی۔”

شہریوں سے اس نئے دور کے قواعد کی پیروی کرنے اور وباء کے خلاف جاری جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے ترکی کے وژن برائے 2053ء اور 2071ء پر روشنی ڈالی اور کہا کہ "ہم پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے کیونکہ کوئی بھی وباء ہمارے اتحاد و یگانگت سے بڑی نہیں ہے۔”

"ہم ادلب میں ایک مرتبہ پھر جنگ کا ماحول نہیں بننے دیں گے”

ادلب کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ "صدارتی نظامِ حکومت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنی سرحدوں کے اندر کامیاب مہمات مکمل کیں۔ ہم 5 مارچ کو روس کے ساتھ مفاہمت کے بعد ادلب میں قائم ہونے والے امن کے ماحول کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔ گو کہ پچھلے کچھ دنوں میں شامی سرکاری افواج نے اشتعال انگیزی میں اضافہ کیا ہے، لیکن ہم ادلب میں ایک مرتبہ پھر جنگ کا ماحول نہیں بننے دیں گے۔ ہماری افواج اس صورت حال کا قریب سے مشاہدہ کر رہی ہیں۔ ہم تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔”

"ہم اپنے لیبیائی بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں”

لیبیا میں ہونے والی پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے طرابلس سے باغیوں کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا ہے، اور کہا کہ ترکی کی مدد اور لیبیا کی حکومت کی ثابت قدمی کی بدولت لیبیا کے خلاف کی بین الاقوامی سازش ناکام ہو چکی ہے۔

صدر نے مزید کہا کہ "ہم اپنے لیبیائی بھائیوں اور بہنوں کی مدد جاری رکھیں گے جب تک کہ پورے لیبیا میں امن، سکون اور انصاف بحال نہیں ہو جاتا۔ فوجی تربیت سے ریاست کی دوبارہ تعمیر تک، ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لائیں گے۔ ہم اپنے لیبیائی بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، باغیوں یا سامراجیوں کے ساتھ نہیں۔”

تبصرے
Loading...