اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کریں تو کوئی طاقت ہمارے سامنے نہیں ٹھہر سکتی، صدر ایردوان

0 559

صدر مملکت اور انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے انقرہ کے ضلع قزل جہامم میں ہونے والے آق پارٹی کے مشاورتی و جائزہ اجلاس کے اختتام پر ایک خطاب کیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ آئندہ عرصے میں معیشت اور سکیورٹی حکومت کی اولین ترجیحات رہیں گی۔

صدر ایردوان نے گزشتہ اگست میں ہونے والے اس حملے کی طرف اشارہ کیا کہ جس کا ہدف زرِ مبادلہ اور سود کے ذریعے ترکی کی معیشت تھی، اور کہا کہ مختصر عرصے میں ضروری اقدامات اٹھائے اور حالات کو عام ڈگر پر لانے کے قابل بنایا۔ 2018ء کا اختتام 2.8 فیصد کی شرحِ نمو کے ساتھ کیا کہ جسے صدر نے اہم شرح قرار دیا اور یہ بھی کہ برآمدات 168 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں۔ صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ” ہر پہلو سے مثبت خبریں سامنے آ رہی ہیں، اعتماد کے اشاریوں اور صنعتی پیداوار سے لے کر بھرپور استعداد کی شرح تک۔”

ترکی اب ایک ایسے عہد میں داخل ہو رہا ہے جہاں چار سال تک ملک میں کوئی انتخابات نہیں۔ اسی تناظر میں صدر ایردوان نے کہا کہ اب وہ ایک، ایک کرکے تمام ضروری تبدیلیاں لاگو کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "درحقیقت، گزشتہ ساڑھے 9 مہینے میں معیشت کے حوالے سے جو کچھ ہوا، اس کی جڑیں ترکی میں نہیں تھیں۔ حالیہ عرصے میں ہماری معیشت کو ہدف بنا کر باہر سے حملے کیے گئے جو اُن گولیوں، میزائلوں اور بموں سے ہرگز مختلف نہ تھے کہ جو ہماری سرحدوں پر داغے جا رہے ہیں۔ درحقیقت، ایسی ہی کوششیں ایک مہینہ پہلے بھی کی گئی تھیں جو ہم نے فوری اقدامات کے ذریعے کسی کے علم میں آئے بغیر ناکام بنا دیں۔ ہم اس اقتصادی دہشت گردی کے سامنے نہ جھکے ہیں اور نہ جھکیں گے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم مسلح اور سفارتی دہشت گردی کے سامنے کبھی نہیں جھکے۔”

صدر مملکت نے مزید کہا کہ جب تک کہ ہمارے شہری، کاروباری دنیا اور ریاست اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرتی رہے گی ، ہمارے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔

تبصرے
Loading...