ترک قبرص کا حقِ حاکمیت تسلیم کیے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے

0 37

دہائیوں سے درپیش مسئلہ قبرص کے حل کے لیے مذاکرات تب تک شروع نہیں ہوں گے جب تک برابری کی بنیاد پر ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا حقِ حاکمیت اور بین الاقوامی سطح پر مقام تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ بات ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے صدر ارسین تاتار نے نیو یارک میں یونانی قبرص کے رہنما نکولس اناستاسیادیس اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس سے ملاقات کے بعد کہی۔

ایک ظہرانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ارسین تاتار نے کہا کہ معاملات اسی طرح نہیں چل سکتے کیونکہ تقریباً نصف صدی اسی ڈگر پر بات چیت چلی ہے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے کہا کہ اب اس معاملے پر نئے زاویے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

شمالی قبرص کے صدر نے کہا کہ قبرص میں دو مختلف قومیتیں اور دو مختلف ریاستیں موجود ہیں۔ اگر اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو یہی صورت حال برقرار رہے گی۔ "سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کی تقاریر سے تصدیق ہوتی ہے کہ شمال میں ایک علیحدہ ریاست موجود ہے۔ یہ ریاست مکمل ادارے رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم سے یہ توقع رکھنا ناقابلِ فہم ہے کہ اپنی ریاست کے معاملے پر ایک قدم پیچھے ہٹیں۔”

مسئلہ قبرص کے حل میں تمام فریقین کو شامل کیا جائے، ترکی

قبل ازیں ملاقات کے بعد ارسین تاتار نے کہا تھا کہ ترک قبرص اپنے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے اور آگے بڑھنے کے لیے مذاکرات کے ہر موقع کا استعمال کرے گا۔

تاتار نے ہفتے کو بھی گوتیریس سے ملاقات کی تھی، جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 76 ویں اجلاس جاری تھا۔ دونوں نے مسئلہ قبرص پر تبادلہ خیال بھی کیا تھا۔

دوسری جانب اناستاسیادیس نے اپنی پریس بریفنگ میں کہا کہ مسئلہ قبرص کے حل کے لیے انہوں نے یونانی انتظامیہ کا نقطہ نظر پیش کیا اور ان کا موقف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ یونان اور یونانی قبرص کی انتظامیہ جزیرے کے لیے ایک وفاق کی بات کر رہی ہے جبکہ ترکی اور ترک قبرص دو ریاستی حل پر زور دے رہے ہیں۔

قبرص میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے مستقبل پر شمالی قبرص سے مشورہ نہیں کیا گیا

جزیرہ قبرص دہائیوں سے یونانی اور ترک قبرصی باشندوں کے مابین کشمکش کا میدان بنا ہوا ہے حالانکہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے کسی جامع تصفیے تک پہنچنے کی کئی سفارتی کوششیں بھی کی جا چکی ہیں۔ یہ جزیرہ ترک قبرصی باشندوں کو جبراً جزیرے سے نکالنے کی کوشش کے بعد 1964ء سے عملاً دو حصوں میں تقسیم ہے جبکہ 1974ء میں یونانی قبرص نے پورے جزیرے پر قبضے کی کوشش کی تھی، جسے ترکی کی بروقت فوجی مداخلت نے ناکام بنا دیا، جس نے مسئلہ قبرص پر ایک ضامن ریاست کی حیثیت یہ قدم اٹھایا تھا۔ 1983ء میں ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا قیام عمل میں آیا۔

یونان کی پشت پناہی سے یونانی قبرص نے 2004ء میں یورپی یونین کی رکنیت بھی حاصل کی۔ باوجود اس کے کہ اسی سال ایک ریفرنڈم میں یونانی قبرص کے باشندوں نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے تصفیے کے منصوبے کو مسترد کر دیا تھا، جس کے تحت پورا قبرص یورپی یونین کا رکن بنتا۔

تبصرے
Loading...