2023ء کے اہداف حاصل کرنے تک نہ رکیں گے، نہ آرام کریں گے: صدر ایردوان

0 1,111

استنبول میں ترکی انوویشن ویک اور InovaLIG ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ” گزشتہ ماہ ہماری برآمدات 15 ارب 273 ملین ڈالرز تک پہنچیں، جو سال بہ سال میں 5.4 فیصد اضافہ ہے جبکہ ہماری درآمدات 14.6 فیصد کم ہوکر 18 ارب 1 ملین ڈالرز تک آ گئی ہیں۔ یوں ہمارا بیرونی تجارتی خسارہ 57.8 فیصد گھٹتے ہوئے 2 ارب 831 ملین تک آ گیا ہے۔ درآمدات و برآمدات کا تناسب اپریل 2018ء میں 68.3 فیصد سے اب 84.4 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔”

"اب اشیاء اور خدمات برآمد کرنا ہی کافی نہیں بلکہ 2023ء کے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے ہمیں اپنی برآمدات پر ویلیو ایڈیشن بھی بڑھانی ہوگی۔ میرا ماننا ہے کہ ہم اپنے ریئل شعبے، مالیاتی شعبے، اپنی معاشی انتظامیہ اور اپنے عوام کے اتحاد کے ذریعے اسے حاصل کر سکتے ہیں، جو ہماری طاقت کا سرچشمہ ہیں۔”

جدت طرازی کے ذریعے مستقبل کے اقتصادی نظام میں قائم و دائم رہنے پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "جب تک 2023ء کے لیے ترکی کے اہداف حاصل نہ کرلیں، ہمیں نہ رُکنا ہے اور نہ آرام کرنا ہے۔ ہم دنیا کے لیے اپنی بانہیں جتنی کھولیں گے، اتنا ہی اپنے اہداف کے قریب پہنچیں گے۔ گو کہ چند طاقتیں ایسا نہیں چاہتیں، لیکن ہم ان کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ ” یورپی یونین نے مہاجرین کے حوالے سے ترکی سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے، اگر یورپی ممالک آج پرامن طور پر رہ رہے ہیں تو انہیں اپنی سرزمین پر 40 لاکھ مہاجرین ٹھہرانے پر ترکی کا ممنون ہونا چاہیے۔”

ترکی میں سماجی تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں کرنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ جنہوں نے شام کو دلدل میں تبدیل کیا، وہ دہشت گردی کے ذریعے ہماری سرحدوں کا بھی گھیراؤ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ترکی کو شام کی طرف سے کسی بھی خطرے سے دوچار نہیں ہونے دیں گے۔ ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے یہاں تک کہ ہم منابج اور دریائے فرات کے مشرقی علاقوں سمیت شامی سرزمین اس کے حقیقی وارثوں کے سپرد کردیں۔ یہ ہم انہیں کہہ رہے ہیں جو ملک کی دفاعی ضروریات کا احترام نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ وہ پابندیوں کی دھمکیوں کے ذریعے ہمیں دیوار سے لگا سکتے ہیں: یاد رکھیں ترکی نہ ہی مشرق وسطیٰ ہے اور نہ ہی بلقان یا جنوبی امریکا۔ یہ ہزاروں سال کی زبردست تہذیبی تاریخ رکھتا ہے اور خطے میں ہزار سالہ غلبے کی تاریخ بھی، ترکی اُن کی اوقات سے کہیں بڑا شکار ہے۔ ترکی کی سالمیت کے خلاف کسی بھی معاشی یا سیاسی کوشش کا مقدر سراسر ناکامی ہے۔”

تبصرے
Loading...