زمین پر، سمندروں اور فضاؤں میں ہر قیمت پر اپنے ملک کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کریں گے، قومی سلامتی کونسل

0 156

صدر رجب طیب ایردوان کی زیرِ قیادت قومی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ "ترکی کے بحیرۂ روم میں اٹھائے گئے جائزاور قانونی اقدامات کے خلاف ترکی کی دشمنی میں یکجا چند کرداروں کے منفی طرزِ عمل کا جائزہ لیا گیا۔ کہا گیا کہ ملک کی زمین پر، سمندروں اور فضاؤں میں ہر قیمت پر اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ایوانِ صدر میں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔

"دہشت گردی کے خلاف جنگ اسی عزم کے ساتھ جاری رہے گی”

کونسل کے اجلاس کے بعد جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا کہ کونسل کو ملک کے اندر اور بیرونِ ملک تمام دہشت گرد تنظیموں بالخصوص ملک کے استحکام، اتحاد اور استقلال کے لیے خطرہ بننے والی ‏PKK/KCK-PYD/YPG، داعش اور FETO کے خلاف کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا، اور زور دیا گیا کہ ترکی کے اندر اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اسی عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔

شام کی علاقائی سالمیت کے تحفظ، خطے کو دہشت گرد تنظیموں سے پاک کرنے اور شامی باشندوں کی محفوظ اور رضاکارانہ طور پر اپنے وطن باوقار واپسی کو ممکن بنانے کے لیے کئی پہلوؤں سے کام کو بلا روک ٹوک جاری رکھنے کا اعادہ کرتے ہوئے اس بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی برادری کوششوں میں ترکی کی مدد کرے۔

"لیبیا کے عوام کے حقوق غصب کرنے والے مشتبہ گروپوں کے خلاف بین الاقوامی برادری کو اصولی مؤقف اپنانا چاہیے”

بیان میں کہا گیا کہ "ترکی کے بحیرۂ روم میں اٹھائے گئے جائزاور قانونی اقدامات کے خلاف ترکی کی دشمنی میں یکجا چند کرداروں کے منفی طرزِ عمل کا جائزہ لیا گیا۔ کہا گیا کہ ملک کی زمین پر، سمندروں اور فضاؤں میں ہر قیمت پر اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔”

لیبیا کی سیاسی وحدانیت اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھتے ہوئے ملک میں امن و سکون کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ قانونی حکومت کو فراہم کی گئی فوجی مشاورتی خدمات کو جاری رکھنے کا اشارہ دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ "بین الاقوامی برادری اُن مشتبہ گروپوں کے خلاف اصولی مؤقف اپنائے جو لیبیا کے عوام کے حقوق غصب کر رہے ہیں اور لیبیا کی قانونی حکومت کو ہدف بنا رہے ہیں۔”

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "عالمی وباء کے خلاف زبردست جدوجہد کے دوران ملک نے ہر شعبے میں خاص طور پر صحتِ عامہ، خوراک، ٹیکنالوجی، معیشت اور ساتھ ساتھ امن عامہ اور سلامتی کے شعبوں میں جو کامیابیاں حاصل کیں، ان پر زور دیا گیا۔”

تبصرے
Loading...