کیا اسلام آباد او آئی سی اجلاس، طالبان حکومت کی مدد پر رکن ممالک کو آمادہ کر سکے گا؟

0 1,207

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) وزرائے خارجہ کونسل کا اہم اجلاس ہو رہا ہے جس کا بنیادی مقصد افغانستان میں بگڑتی انسانی صورت حال ہے۔ اجلاس میں ترکی اور پاکستان سمیت او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طٰحہ؛ کویت، انڈونیشیا، ملائیشیا، بوسنیا، ترکمانستان، آذربائیجان، نائجیریا اور مالدیپ سمیت دیگر مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شمولیت کر رہے ہیں۔

اجلاس میں شرکت کیلئے ازبکستان کے وزیر ٹرانسپورٹ، عمان اور بنگلا دیش کے فارن سیکرٹریز، جرمنی اور امریکا کے نمائندگان خصوصی برائے افغانستان بھی اسلام آباد  پہنچ چکے ہیں۔

اس کے علاوہ خصوصی طور پر اس اجلاس میں اقوام متحدہ، بین الاقوامی مالیاتی ادارے، امریکا، برطانیہ،فرانس، چین، روس، جرمنی، اٹلی کے مندوبین بھی شامل ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کا مقصد واضع کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ افغانستان کی صورتحال کی جانب مبذول کرانا ہے اور اس حوالے سے پیش رفت دیکھی جارہی ہے۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان اس اجلاس میں افغانستان کا مقدمہ مسلم ممالک اور عالمی نمائندوں کے سامنے رکھیں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اجلاس امریکہ اور مغربی دنیا سے طالبان حکومت سے رابطہ بڑھانے پر زور دے گا، دوسری طرف امریکہ سے منجمد رقوم کی بحالی کے فیصلے پر بھی زور دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اسلامی ممالک او آئی سی کے تحت ایک افغان فنڈ کے قیام کا اعلان بھی کر سکتے ہیں جو افغان عوام اور طالبان حکومت کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتا ہے۔

اس اجلاس سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی بات آگے نہیں بڑھے گی تاہم اس کے نتائج کا طالبان حکومت کو بہت زیادہ فائدہ گا۔ اس اجلاس کے متوقع نتائج کس حد تک حاصل ہوں گے یہ اس کے حتمی اعلامیہ کے بعد دیکھا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ یہ اجلاس سعودی عرب کی دعوت پر طلب کیا گیا ہے جو اسلامی تعاون تنظیم کا چیئرمین ہے۔ پاکستان نے اجلاس بلانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اجلاس کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: