او آئی سی کا ہنگامی اجلاس: بے رغبت اسلامی دنیا سے ترکی ٹھوس اقدامات کا خواہاں

0 1,270

آج استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔ ترکی اس مدت میں او آئی سی کی صدارت سنبھالے ہوئے ہے جس کی وجہ سے وہ ہر اہم مسئلہ پر فوری ردعمل دیتے ہوئے اسلامی دنیا کو بیدار کرتا ہے۔ مسئلہ فلسطین پر ہونے والا ہنگامی اجلاس اسی کا ایک عکس ہے۔ تاہم بے رغبت اسلامی دنیا کے برعکس ترکی اس معاملے پر اب ٹھوس اقدامات اٹھانے کا خواہاں ہے۔

استنبول کے اس ہنگامی اجلاس میں فلسطینی وزیر اعظم رامی حمد اللہ، اردن کے باشادہ عبداللہ دوم، ایرانی صدر حسن روحانی، پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، افغان صدر اشرف غنی، کویتی امیر صباح الاحمد اور مورتانیہ کے صدر محمد ولید عبد العزیز کی شرکت متوقع ہے۔

عرب دنیا کی شرکت بارے کچھ اطلاعات نہیں ہیں اگرچہ دسمبر میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں انہوں نے بہت کم شرکت کی تھی۔ عرب رہنما اپنے خطوں میں امریکی مدد کے ساتھ اپنے اقتدار کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے جب یہ معاملہ درپیش آتی ہے تو ان کے بہت مشکل صورت حال پیدا ہوتی ہےکہ امریکی پالیسیوں کے خلاف قدم اٹھائیں، حتی کہ جب معاملہ بیت المقدس کا ہی ہو تو وہ شش و پنچ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اپنے گذشتہ اجلاس میں او آئی سی نے امریکی سفارت خانے کی منتقلی کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس کے ساتھ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ مشرقی بیت المقدس مقبوضہ فلسطین کا دارالحکومت ہے۔ اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ امن عمل سے علیحدہ ہو جائے یا اپنے اس فیصلہ کو واپس لے۔

اس گذشتہ اجلاس میں مسلم دنیا کے اعلیٰ سطحی قیادتوں کا شریک نہ ہونا ترک صدر رجب طیب ایردوان کو ناگوار گزرا تھا اور انہوں نے اس پر تنقید بھی کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ "کچھ ممالک نے او آئی سی کے استنبول اجلاس میں اپنے اعلیٰ سطحی وفود بھیجے لیکن عرب لیگ کے ممبران کا رویہ پریشان کن رہا تھا”۔

انہوں نے مزید بتایا کہ "50 سے زائد ممالک نے اس اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں اپنے پارلیمانی اسپیکرز، وزراء خارجہ اور دیگر اعلیٰ افسر بھیجے۔ اگرچہ یہ تمام لوگ اہم تھے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بڑی قیادتوں کی شرکت ضروری تھی”۔

اس تقسیم شدہ مسلم دنیا میں دو آپشن باقی رہتے ہیں کہ یا تو ترکی ٹھوس اقدامات پر اڑ جائے جس پر باقی اسلامی دنیا راضی نہ ہو لیکن ایسے کسی بھی فیصلے کی عالمی حیثیت نہیں ہو گی۔ ایسا کوئی بھی فیصلہ اپنے علمداری سے قبل ہی بے وقعت ہو جائے جس کو اسلامی دنیا کی تائید حاصل نہ ہو۔ او آئی سی کا دوسرا آپشن یہ ہے کہ ایک معقول متفقہ فیصلہ کیا جائے تاکہ اس کے اتحاد کو قائم رکھا جا سکے۔ او آئی سی کے آج کے اجلاس کا اصل فوکس فلسطینی حقوق اور اسرائیلی جرائم ہو سکتے ہیں جن پر تمام اسلامی ممالک اتفاق کرتے ہیں۔ ترکی نے خواہش کا اظہار کیا ہے فلسطین اس کیس کو عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائے اور اس معاملے میں باقی دنیا کو بیدار کیا جائے۔

او آئی سی کے اجلاس کے بعد استنبول میں ایک بڑی ریلی کا انتظام کیا گیا ہے جس میں تمام اسلامی دنیا کے نمائندے شرکت کریں گے۔ ریلی کا عنوان ہے کہ دنیا ایکشن لے۔

تبصرے
Loading...