تیل کی قیمتیں 17 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں

0 345

کروناوائرس کی وباء سے ایشیا کو فراہمی میں کمی آنے اور سعودی عرب اور روس کے مابین قیمت پر ہونے والے تنازع کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 17 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ یوں مارکیٹ میں تیل انتہائی قیمتوں پر اور وافر مقدار میں دستیاب ہے اور یہ دیگر ممالک کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنے پاس تیل کے زیادہ سے زیادہ ذخائر محفوظ کر لیں۔

امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 5.3 فیصد کی کی کمی کے ساتھ 20 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ بین الاقوامی بینچ مارکیٹ برینڈ کروڈ 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 23 ڈالرز پر ہے۔ یہ کمی عالمی وباء کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 30,000 سے زیادہ ہو جانے اور یورپ کے اہم ملکوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے آئی ہے۔

کروناوائرس کی عالمگیر وباء اور کئی ملکوں میں لاک ڈاؤنز کی وجہ سے کھپت میں آنے والی کمی نے کئی ہفتوں سے عالمی مارکیٹ کو متاثر کررکھا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کا اندازہ ہے کہ تیل کی عالمی کھپت روزانہ 100 ملین بیرل سے گھٹ کر 80 ملین بیرل ہو گئی ہے۔

طلب میں آنے والی اس کمی کو مزید نقصان پہنچایا رسد میں ہونے والے ڈرامائی اضافے نے کہ جو سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ممالک سعودی عرب اور روس کے مابین تیل کی قیمت کے معاملے پر کشیدگی کی وجہ سے بڑھی۔ دونوں ممالک قیمت کو سہارا دینے کے لیے اپنی پیداوار گھٹانے پر اب تک متفق نہیں ہوئے۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ریاض کا کہنا تھا کہ وہ پیداوار میں کمی کے حوالے سے ماسکو کے ساتھ رابطے میں نہیں ہے جبکہ روس کے نائب وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمت 25 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ جانا ان کے ملک میں تیل کی پیداوار کرنے والوں کے لیے دھچکا نہیں ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین میں اختلافات بدستور موجود ہیں۔

خطرہ ہے کہ دنیا بھر میں اسٹوریج اپنی مکمل گنجائش تک پہنچ گئیںتو تیل کی قیمتیں مزید گریں گی۔

تبصرے
Loading...