ہم نے 15 جولائی کو زبردست مزاحمت سے اُن غداروں کو شکست دی جو قوم کے ارادوں کو پامال کرنا اور ہمارے مستقبل کو تباہ کرنا چاہتے تھے، صدر ایردوان

0 1,079

‏15 جولائی بغاوت کوشش کے چار سال مکمل ہونے پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "15 جولائی کی شب انہوں نے ایک مرتبہ پھر آزادی کی متوالی قوم کو زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی لیکن الحمد للہ وہ ناکام ہوئے۔ ہم نے زبردست مزاحمت کے ذریعے اُن غداروں کو شکست دی جو قوم کے ارادوں کو پامال کرنا اور ہمارے مستقبل کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے 15 جولائی کو یوم جمہوریت و قومی اتحاد کے موقع پر ایوان صدر سے قوم سے خطاب کیا۔

"مزاحمت میں حصہ لینے والے شہریوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا”

15 جولائی کی رات گھروں سے نکل کر گلی کوچوں میں باغیوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے شہریوں کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا، اس پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے اس عظیم جدوجہد میں شہادت کی موت قبول کرنے والوں کے لیے دعائے مغفرت اور غازیوں کے لیے دعائے صحت کی۔

"ہماری قوم نے 15 جولائی کو جو فتح حاصل کی وہ کوئی عام کامیابی نہیں تھی”

15 جولائی کو حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے لیے 15 جولائی کو حاصل کردہ فتح کوئی عام کامیابی نہیں تھی، صدر ایردوان نے اس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 15 جولائی کو سمجھنے کے لیے ترک عوام کی طویل جدوجہد پر نظر ڈالنا ضروری ہے جو وہ ہزاروں سالوں سے اپنی سرزمین پر کر رہے ہیں۔

بغاوت کی کوشش کے ابتدائی گھننٹوں سے ہی ترک عوام نے غیر معمولی فہم و فراست کا مظاہرہ کیا، شورش پسندوں کے پس پردہ حقائق کو جانا اور فوری ردعمل دکھایا، صدر نے مزید کہا کہ "قوم کے ہر فرد نے ثابت کیا کہ وہ اپنی اذان، پرچم، آزادی اور مستقبل کے لیے جہاں ضرورت پڑی ایک ناقابلِ شکست ہیرو بن کر ابھر سکتا ہے۔”

"15 جولائی کو انہوں نے ایک مرتبہ پھر آزادی کی متوالی قوم کو زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی اور ناکام ہوئے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "15 جولائی کی شب انہوں نے ایک مرتبہ پھر آزادی کی متوالی قوم کو زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی لیکن الحمد للہ وہ ناکام ہوئے۔ ہم نے زبردست مزاحمت کے ذریعے اُن غداروں کو شکست دی جو ہماری اذانوں کو خاموش کرانا، ہمارے پرچم کو سرنگوں کرنا، ہماری قوم کے ارادوں کو پامال کرنا اور ہمارے مستقبل کو برباد کرنا چاہتے تھے۔”صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "15 جولائی نے ظاہر کیا کہ جو ہماری ریاست کو گرانا اور ہماری سرزمین کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب ہماری قوم کا آخری فرد اپنا آخری سانس لے۔”

تبصرے
Loading...