صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کا سنایا گیا ایک قابل غور لطیفہ

0 2,994

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر گاہے بگاہے کالم لکھتے ہیں جو یہاں پڑھے جا سکتے ہیں: ابراہیم قالن کے مضامین

ایک تقریب میں شریک تھا، ابراہیم قالن بھی وہاں مدعو تھے۔ ویسے تو ان کی پوری تقریر، تحاریر، سننے پڑھنے کا لائق ہوتی ہیں لیکن وہ حاضرین کی توجہ کیسے حاصل کرتے ہیں۔ ذیل میں انہی کے الفاظ میں آپ کو سناتا ہوں (ایڈمن آر ٹی ای اردو)

ایک جمعہ نصرالدین ہوجا کے اصرار کے باوجود کہ میں نہیں جانتا کیا کہوں گا، ان کے استاد نے خطبے کیلئے زبردستی کھڑا کر دیا۔ نصر الدین ہوجا منبر پر آئے اور گہری سانس لی اور سوال پوچھا کہ کیا آپ سب جانتے ہو آج میں آپ سے کیا خطاب کرنے آیا ہوں۔ سب سے کہا، بالکل نہیں ہم نہیں جانتے۔ نصر الدین ہوجا نے کہا میں جاہلوں سے خطاب نہیں کر سکتا اور منبر سے اتر آئے۔

اگلے جمعہ پھر استاد نے زبردستی کھڑا کر دیا۔ نصر الدین ہوجا نے پھر منبر سے وہی سوال دہرایا کہ کیا آپ سب جانتے ہو آج میں آپ سے کیا خطاب کرنے آیا ہوں۔ حاضرین نے سوچا کہ پچھلے ہفتے انکار کیا تو جاہل کا لقب پایا تھا۔ سب سے کہا جی ہاں ہم جانتے ہیں۔ نصر الدین ہوجا نے، آپ سب جانتے ہو تو مجھے خطاب کرنے کی ضرورت نہیں، کہا اور منبر سے اتر گئے۔

تیسرے ہفتے استاد نے پھر نصر الدین کو کھڑا کر دیا، انہوں نے آتے ہی وہی سوال دہرایا کیا آپ سب جانتے ہو آج میں آپ سے کیا خطاب کرنے آیا ہوں۔ حاضرین اب تذبذب کا شکار ہو گئے، کچھ نے کہا کہ ہاں جانتے ہیں اور کچھ نے کہا کہ نہیں جانتے۔ نصر الدین ہوجا نے کہا کہ جاننے والے، نہ جاننے والوں کو بتا دیں اور منبر سے اتر گئے۔

اس لطیفہ میں دراصل وہ بتانا چاہتے تھے کہ تعلیم کا عمل ایک حقیقت ہے۔ جاننے والوں اور نہ جاننے والوں کے درمیان ایک پل کا نام ہے۔ 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: