ایک تہائی مصری باشندے ترکی کو مسلمانوں کا رہنما سمجھتے ہیں، سروے

0 322

مصر کے شہری ترکی کو مسلم دنیا کا رہنما ملک سمجھتے ہیں، اور ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کے لیے لڑنے مرنے کو بھی تیار ہیں، حالانکہ ترکی کے خلاف مصری صدر عبد الفتح سیسی کی حکومت کی پروپیگنڈا مہم اس وقت زوروں پر ہے۔

ایک ریسرچ فرم Areda کی جانب سے ایک سروے کیا گیا کہ جس میں 20 سے 27 اگست کے دوران مصر کے 1,047افراد نےحصہ لیا۔ اس سروے میں 31.4 فیصد مصریوں نے کہا کہ وہ مصر کے علاوہ ترکی کو مسلم دنیا کا رہنما ملک سمجھتے ہیں، جبکہ 10.4 فیصد نے سعودی عرب، 6.2 فیصد نے متحدہ عرب امارات، 1.6 فیصد نے قطر، 1 فیصد نے پاکستان اور 0.5 فیصد نے ایران کا نام لیا۔ 9.7 فیصد نے "دیگر” اور 39.2 فیصد نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ جنگ کی صورت میں کیا وہ ترکی کے لیے لڑیں گے، 15.3 فیصد افراد نے جواب دیا "جی ہاں”۔

جواب دینے والوں نے اپنے ملک کی انتظامیہ کے حوالے سے بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا، جیسا کہ 41.6 فیصد نے کہا کہ وہ ان سے خوش نہیں ہیں اور 18.4 فیصدنے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

48.5 فیصد نے کہا کہ ملک میں انتخابات کی صورت میں وہ سیسی کو ووٹ نہیں دیں گے جبکہ 35 فیصد نے کہا کہ وہ ان کو ووٹ دیں گے اور ساڑھے 16 فیصد نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

دریں اثناء، ایک سوال کے جواب میں کہ آیا مصری حکام دوسرے ملکوں سے متاثر ہوئے بغیر آزادانہ فیصلے کررہے ہیں؟ 48.6 فیصد نے "نہیں” کی صورت میں جواب دیا جبکہ 41.4 فیصد کا جواب اثبات میں تھا۔ 10 فیصد نے کہا کہ انہیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔

ترکی اور مصر کے درمیان تعلقات سیسی کی جانب سے ملک کے پہلے جمہوری طور پر منتخب شدہ صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد سے کشیدہ ہیں۔

فوج نے اخوان المسلمون تحریک کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا اور مرسی سمیت کئی اہم رہنماؤں کو گرفتار کر لیا جنہیں کئی مقدمات کا سامنا تھا۔

ذیابیطس اور گردوں کے امراض کے شکار محمد مرسی جون 2019ء میں عدالتی کارروائی کے دوران بے ہوش ہوئے اور انتقال کر گئے۔ مرسی کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں مناسب علاج فراہم نہیں کیا گیا۔

سیسی کے دورِ حکومت میں مصر میں ترکی مخالف مہم بھی چلائی گئی ہے یہاں تک کہ چند ترک سیاحوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

مصر نے ترکی کے خلاف لیبیا میں متحدہ عرب امارات اور مشرقی بحیرۂ روم میں یونان کا ساتھ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

تبصرے
Loading...