حملے رُکنے پر ہی سوچی مفاہمت کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں، صدر ایردوان

0 589

روس کے صدر ولادیمر پوتن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ” حملے رکنے کی صورت میں ہی وہ سوچی مفاہمت کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم ترکی میں وسطِ ستمبر میں طے شدہ سہ فریقی اجلاس کے ساتھ اس عمل کو برقرار رکھیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ عمل علاقائی امن میں بڑا حصہ ڈالے گا اور ہم جنیوا اجلاس سے پہلے امید کے ساتھ مزید اقدامات اٹھائیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان اور روس کے صدر ولادیمر پوتن نے ماسکو، روس کے ژوکوسکی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

"ہم دفاعی صنعت میں مثبت اقدامات اٹھا رہے ہیں، جن میں S-400 سسٹمز کی فراہمی کا آغاز بھی شامل ہے”

MAKS-2019 ایئر شو میں شرکت کے لیے روس آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صدر طیب ایردوان نے اپنے روسی ہم منصب اور روسی عوام کو 17 سے 22 ستمبر تک استنبول میں ہونے والی رواں سال کی TEKNOFEST شرکت کی دعوت دی۔

گزشتہ ماہ انطالیہ میں ترک و روسی وزراء کی ہونے والی مکسڈ اکنامک کمیشن ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم اس سال سیاحت میں نیا ریکارڈ توڑنے والے ہیں۔ اس سال کے ابتدائی 6 مہینوں میں ترکی کی میزبانی پانے والے روسی سیاحوں کی تعداد 14 فیصد اضافے کے ساتھ 27 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ مشترکہ طور پر اعلان کردہ ثقافت و سیاحت کے سال کے حوالے سے متعلق ایونٹس کامیابی سے جاری ہیں۔ ہم دفاعی صنعت میں مثبت اقدامات اٹھا رہے ہیں، جن میں S-400 سسٹم کی فراہمی کا آغاز شامل ہے۔ اس سلسلے میں آج کی دو طرفہ ملاقات میں دفاعی صنعت سے متعلقہ کئی شعبوں میں ممکنہ اقدامات پر گفتگو کا موقع شامل تھا۔”

"ادلب میں لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے ہیں”

یہ کہتے ہوئے کہ وہ اور ان کے روسی ہم منصب نے شام میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جس میں خصوصی توجہ ادلب کی تازہ ترین صورت حال پر رہی، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے سوچی میں ستمبر میں ہونے والی مفاہمت کے نتیجے میں ادلب میں نسبتاً امن حاصل کیا۔ گزشتہ سال ہم نے انتہائی حساس دور میں صدر پوتن کے ایک اہم قدم کے ذریعے ادلب میں انسانی المیے کا رخ موڑا۔ البتہ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے مئی سے ہونے والے سرکاری حملے ادلب میں سکون کو بدقسمتی سے خراب کر رہے ہیں۔ ان حملوں نے سوچی مفاہمت کے عملی نفاذ کی ہماری کوششوں میں رکاوٹ ڈالی۔ 500 سے زیادہ معصوم لوگ مارے گئے اور 1,200 سے زیادہ شہری مئی سے اب تک ہونے والے سرکاری حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں۔ لاکھوں افراد ادلب میں گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔”

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ 35 لاکھ شامی باشندوں کو اب نئے انسانی سانحے کا سامنا ہے، صدر ایردان نے کہا کہ ان میں سے بیشتر افراد ترک سرحدون کی جانب رواں ہیں۔

اس وقت ترکی 36 لاکھ شامی مہاجرین کا مسکن ہے، صدر ایردوان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "یہ ناقابلِ قبول ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر زمینی اور فضائی حملوں میں شہریوں میں موت کو پھیلائے۔ شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملے بدقسمتی سے ان بنیاد پرست عناصر کو مضبوط بھی کر رہے ہیں۔ سرکاری اشتعال انگیزی اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ یہ خطے میں موجود فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ میں اس امر کی جانب بھی اشارہ کرنا چاہوں گا کہ ہمیں اپنے دفاع کا قانونی حق حاصل ہے، خاص طور پر اپنی سرحدوں کے ساتھ ساتھ۔”

"ہم شام کی علاقائی سالمیت سے اپنی وابستگی کا عادہ کرتے ہیں”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمیں بروقت ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ میں ان مسائل پر اپنے ملک کے پختہ عزم کا اظہار اپنے عزیز دوست پوتن سے کیا۔ میں نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ ہم ادلب میں امن و سکون حاصل کرنے کے لیے آستانہ عمل کی روح کے مطابق کام کریں۔ سرکاری افواج کی جانب سے حملے روکنے سے ہی ہم سوچی مفاہمت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم ترکی میں ستمبر کے وسط میں طے شدہ سہ فریقی اجلاس کے ذریعے اس عمل کو جاری رکھیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ عمل علاقائی امن میں بڑا حصہ ڈالے گا اور امید ہے کہ ہم جنیوا اجلاس سے قبل مزید اہم اقدامات اٹھائیں گے۔”

یہ کہتے ہوئے کہ دریائے فرات کے مشرقی علاقے کے بارے میں بات کرنے کا موقع بھی ملا، صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "اس موقع پر ہم نے شام کی علاقائی سالمیت کا پابند رہنے کا اعادہ بھی کیا۔

"ہمارا ہدف خون ریزی کا روکنا اور ایک پرامن ماحول کو یقینی بنانا ہے”

ایک آئینی کمیٹی کے قیام کے لیے کام اب حتمی مرحلے میں ہے جو روس کے ساتھ ایران اور اقوام متحدہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے، اس پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم حتمی حالات سے نمٹنے ہوئے کمیٹی کا جلد از جلد اعلان کرنا چاہیں گے۔ دو ملکوں کی حیثیت سے ہم ایک دوسرے کی سکیورٹی حساسیت سے واقف ہیں۔ ہم شام کے استحکام کے لیے اپنے دوست کے ساتھ مل کر چند اہم قدم اٹھا چکے ہیں۔ ہم ان آئندہ کے لیے بھی ایسے ہی اقدامات کو جاری رکھیں گے۔ ہمارا ہدف خون ریزی کا خاتمہ اور ایک پرامن ماحول کو یقینی بنانا ہے کہ جس کا ہمارے پڑوسی شام کو پچھلے آٹھ سالوں سے سامنا ہے۔”

"ہم ایک سیف زون کا وعدہ پورا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں”

پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں سے سوال کا جوابات دیتے ہوئے کہ دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر سیف زون کے قیام پر بات ہوئی یا نہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ انہوں نے اس مسئلے پر صدر پوتن کے ساتھ بات کی اور وزیر امور خارجہ اور وزیر قومی دفاع نے بھی اپنے امریکی منصبوں سے اس حوالے سے بات کی ہے۔ صدر نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہم نے کیے گئے اپنے وعدے فوراً پورے کریں۔ ہم منبج اور کوبانی اور مشرقی علاقے کی دہشت گرد تنظیموں کو ان علاقوں سے فوراً نکالنا چاہتے ہیں۔ ہم علاقے میں سیف زون کے وعدے کو بھی پورا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔” سرحد پر ہراساں کرنے کے لیے ہونے والی فائرنگ کی جانب بھی توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ خاموشی سے ان معاملات کو دیکھتا رہے۔

"ہم دفاعی صنعت کے کئی شعبوں میں روس کے ساتھ اپنی یکجہتی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں”

دفاعی صنعت کی مصنوعات کے نئے ممکنہ معاہدوں کے حوالے سے ایک سوال پر صدر ایردوان نے کہا کہ دفاعی صنعتوں کے صدر روسی ہم منصب کے ساتھ اپنی گفتگو جاری رکھیں گے اور یہ ترکی کی خواہش ہے کہ وہ دفاعی صنعت کے کئی شعبوں میں روس کے ساتھ اتحاد برقرار رکھے۔ ترکی اور روس کے درمیان اقتصادی تعاون کے موضوع پر صدر ایردوان نے دونوں ملکوں کے درمیان 25 ارب ڈالرز کے تجارتی حجم کی جانب توجہ دلائی اور زور دیا کہ ان کا ہدف 100 ارب ڈالرز کی باہمی تجارت ہے۔

اس پریس کانفرنس کے ساتھ روس کا دورہ مکمل کرکے صدر ایردوان ترکی کے لیے روانہ ہوگئے۔

تبصرے
Loading...