آپریشن شاخِ زیتون: اب تک 947 دہشتگرد ہلاک جبکہ 15 ترک فوجی شہید ہوئے

0 1,234

ترک ملٹری کے بیان کے مطابق شمال مغربی شام میں واقع عفرین میں جاری ترک فوج کے آپریشن شاخ زیتون میں پی کے کے کی شامی شاخ وائے پی جی اور داعش کے 947 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ترک ملٹری کی جانب سے گرفتار زندہ یا مردہ دہشتگردوں کے لیے یا دوران آپریشن ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے "غیر موثر بنائے گئے” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم یہ لفظ عمومی طور پر دوران آپریشن مارے جانے والے دہشتگردوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ترک ملٹری کے مطابق گذشتہ شب فضائی حملوں میں 12 دہشتگردوں کو "غیر موثر” بنایا گیا۔

ترک فوج اور آزاد شامی فوج نے سوموار کے روز راجو قصبہ کے مغربی حصے سُرقہ گاؤں کو دہشتگردوں سے آزاد کروا لیا۔

ترک خبر رساں ادارے کے مطابق آپریشن شاخ زیتوں میں گذشتہ روز مزید 2 ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد آپریشن میں کل ترک فوجی شہداء کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔

آپریشن شاخِ زیتون ترکی کی طرف سے شامی صوبہ عفرین میں پی کے کے/پی وائے ڈی/وائے پی جی/کے سی کے اور داعش کے دہشتگردوں کے خلاف 20 جنوری کو شروع کیا گیا تھا۔

ترک جنرل اسٹاف کے مطابق آپریشن کا مقصد ترک سرحدوں کے ساتھ خطے میں سیکورٹی اور استحکام قائم کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کے ظلم اور بربریت سے شامی عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن بین الاقوامی قانون اور یو این سیکورٹی کونسل کے قراردادوں کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ترکی کے حقوق کے تحت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کے لیے قدم اٹھانے کا حق ہے تاہم اس سلسلے میں شام کی سالمیت کا احترام کیا جائے گا۔

ملٹری نے کہا ہے کہ یہ بات "انتہائی اہمیت” رکھتی ہے کہ اس آپریشن میں کسی سویلین کو نقصان نہ پہنچے۔

تبصرے
Loading...