آپریشن شاخِ زیتون: مقدس آغاز، مقدس جنگ اور مقدس مقاصد، مگر کیسے؟

0 3,217

ترک ہمارے ماضی کی عظمت کا نشان ہیں، ہم سلطنت عثمانیہ میں ایک باوقار ملت اسلامیہ کی طرح زندہ رہے ہیں- موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے جہاں ترکوں کی روح کو بیدار کر دیا ہے وہیں ملت اسلامیہ میں امید کی شمع روشن کی ہے کہ ہم ایک پھر اِس عہد جدید میں اپنی گم گشتہ عظمت کو حاصل کر سکتے ہیں- آپریشن شاخِ زیتون اس کی وہ مثال ہے جسے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں- 20 جنوری 2018ء کو شروع ہونے والے اس آپریشن کا مقصد پی کے کے/وائے پی جی کو خطہ کے وسط میں ایک ایسی ریاست بنانے سے روکنا تھا جس کی امریکہ اور اس کے اتحادی ہر طرح سے مدد کر رہے ہیں- جب امریکہ نے ان دہشتگرد تنظیموں کی مدد سے شامی جمہوری فورس بنانے کا اعلان کیا تو ترک حکومت نے فوری طور پر آپریشن کی منظوری دے دی-

ترک فوجی عفرین کے جنگی میدان میں ٹینک کے اندر نماز کی ادائیگی کرتے ہوئے

جس پس منظر میں یہ آپریشن شروع ہوا، ہر دوسرا شخص یہ کہہ رہا تھا کہ یہ شام میں ایک نئی طویل جنگ اور خون خرابے کا سبب بنے گا- یہ امریکی مفادات اور اس کے اتحادیوں پر براہ راست حملہ تھا- لیکن بہادر ترکوں نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے شامی سرحد عبور کر لی- ترکی کے مذہبی امور کے ادارے دیانت نے ملک بھر کی تمام رجسٹرڈ مساجد کو نوٹس جاری کیا کہ وہ سورة فتح کی باآواز تلاوت کا اہتمام کریں اور دنیا بھر میں دعائیہ تقاریب ہوئیں، یوں ترک فوج اپنے شامی اتحادی "آزاد شامی فوج” کے ہمراہ قرآن کی تلاوت اور مسلمانان عالم کی دعاؤں کے ساتھ میدان جنگ میں اتری اور پھر جب ٹینک پر چڑھتے ایک فوجی سے سوال کیا گیا کہ ان کی منزل کیا ہے تو ان کا جواب تھا "سرخ سیب”، جس کا مطلب خلافت عثمانیہ میں شامل بلقان، مشرقی یورپ، ایشیا، عرب اور افریقی خطے لیے جاتے ہیں۔ یہ آپریشن شاخِ زیتون کا مقدس آغاز تھا- عصر حاضر میں ایسا کوئی جنگی معرکہ نہیں ہوا جو اس اہتمام کے ساتھ شروع کیا گیا ہو-

جدید وار فیئر کی مدد سے اپنے اہداف کے حصول، دہشتگردوں کو نشانہ بنانے اور پوزیشنوں سے قبضہ چھڑانے کے دوران "کولیٹرل ڈیمیج” (Collateral Damage) عمومی طور پر حالیہ جنگوں کا حصہ بن چکا ہے بلکہ ہم نے دیکھا ہے کہ جنگی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کوئی ایسی احتیاط نہیں کی جاتی کہ عام شہری، ان املاک، مساجد، مذہبی اور ثقافتی مقامات کو نشانہ نہ بنایا جائے- افغانستان میں تورا بورا کے پہاڑوں پر اس طرح کارپٹ بمباری کی گئی کہ اس کے نیچے انسان تو کجا حیوان، چرند پرند اور ماحول کو بھی ملیامیٹ کر دیا گیا- شادی تقریبات اور جنازہ تک کو نشانہ بنایا گیا- شام اور عراق میں جس بے رحمی نے لاکھوں معصوم جانوں کو قتل کیا گیا یہ تو ابھی بھی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں- مشرقی غوطہ کے تازہ دلسوز نظارے ہمارے سامنے ہیں- حلب، حماہ، رقہ اور موصل کے کھنڈرات اس کی گواہی دے رہے ہیں- تاریخی، ثقافتی مذہبی عمارات اور مساجد، ماضی کی اسلامی تہذیب کے تمام نقوش مٹا دئیے گئے ہیں- لیکن آپریشن شاخِ زیتون میں اس پر خصوصی توجہ دی گئی-

امریکی اتحادیوں اور وائے پی جی کی جانب سے چھڑایا جانے والا شامی شہر رقہ، جنگ کے بعد کا منظر

اگر ترکی چاہتا تو جیٹ طیاروں کی بمباری کے ساتھ اپنی فوج کو آگے بڑھا کر چند ہفتوں میں اس آپریشن کو کامیابی سے مکمل کر سکتا تھا- لیکن ایسا نہ کیا گیا اور کہا گیا کہ عام شہریوں اور ان کی املاک کی حفاظت ان کی ترجیح اول ہے- اس احتیاط کا یہ عالم تھا کہ رجب طیب ایردوان نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "اگر ہم دہشتگردوں اور شہریوں میں فرق نہیں کر سکتے تو اس آپریشن کو شروع ہی نہ کیا جاتا”- اس خوف اور احتیاط کے ساتھ اس آپریشن نے 58 دن لیے اور اس احتیاط کا کئی مواقع پر نقصان بھی برداشت کیا- سست رفتاری کی وجہ سے جہاں دہشتگردوں کو پوزیشنز بدلنے اور منصوبہ بندی میں وقت ملتا رہا وہیں شام کے باقی حصوں سے پی کے کے/وائے پی جی دہشتگرد تنظیم سے وابستہ افراد کو مدد کے لیے پہنچنے کا وقت ملتا تھا- یہی وجہ ہے رقہ سے امریکی تربیت یافتہ دہشتگردوں کا ایک گروہ حلب سے گزر کر عفرین مرکز تک آیا- لیکن اس کے باوجود یہ آپریشن تمام مقدس احتیاطوں کے ساتھ کامیابی سے آگے بڑھتا رہا- اور بالآخر 18 مارچ 2018ء کو ترک اور آزاد شامی فوج عفرین کے مرکزی شہر میں داخل ہو گئیں-

امریکی اتحادیوں کی جانب سے چھڑایا جانے والا شامی شہر موصل، جنگ کے بعد کا منظر

شہر میں داخلے میں قبل 5 دن تک پورے شہر کو ڈرون طیاروں کے ذریعے مانیٹر کیا جاتا رہا- دہشتگردوں کی نقل و حرکت اور پناہ گاہوں کو نشان زدہ کیا گیا اور پوری منصوبہ بندی کے 18 مارچ کا دن چنا گیا- کیونکہ 18 مارچ ہی وہ دن تھا جب ترک فوج نے چناق قلعہ کی گیلی پولی جنگ جیت کر جنگ عظیم اول کی اتحادی افواج کو شکست سے دوچار کیا تھا- ترک فوج نے اپنے بیان میں باقاعدہ طور پر اس کا اظہار کیا کہ 18 مارچ کی یہ فتح چناق قلعہ کے شہیدوں سے منسوب کی جاتی ہے اور ترک ملت کو تحفہ میں دی جا رہی ہے-

نشان زدہ پوزیشن کو مٹانے کے بعد عفرین میں داخلے کے وقت انہیں زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا- شہر کی انتظامی عمارت پر ترکی کا جھنڈا لہرایا گیا اور عفرین کی مرکزی جامع مسجد میں اذان دی گئی- شہریوں نے عثمانی فوج کو خوش آمدید کہا اور ان کی پیشانیاں چومیں-

عفرین مرکز میں مقامی شہریوں کی طرف سے ترک فوج کا استقبال

ان سب کے باوجود ایک چیز ابھی رہتی ہے جو اس آپریشن کی اہمیت اور تقدیس میں اضافہ کرتی ہے۔ ترکی اس آپریشن کی مدد سے منبج، عین العرب، تل ابیض اور راس العین سمیت دریائے فرات کا تمام مشرقی حصہ دہشتگردوں سے آزاد کروانا چاہتا ہے۔ اگرچہ اس کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ ترکی کی شامی سرحد محفوظ ہو جائے گی اور مستقبل میں وہاں کسی قسم کے دہشتگرد عناصر پنپ نہیں سکیں گے لیکن ترکی کے عزائم اس سے کہیں زیادہ ہیں وہ اپنے اور ہمارے شامی بھائیوں اور بہنوں کے لیے بھی فکر مند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے تقریبا 4 ملین شامی مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور انہیں دی گئی سہولیات قابل رشک ہیں۔ اب ترکی ان علاقوں کو آزاد کر کے شامی مہاجرین کو شامی سرحدوں کے اندر بسانا چاہتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اسی مقصد کو اس دن دوہرایا جب ترک فوج عفرین مرکز میں داخل ہو چکی تھی، انہوں نے شمالی شام کے دیگر علاقوں میں جہاں دہشت گرد موجود ہیں کی مکمل صفائی تک فوجی کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا ترکی اس علاقے میں بفر زون قائم کرتے ہوئے ان تمام مہاجرین یا پناہ گزینوں کو آباد کرنا چاہتا ہے جو اسد انتظامیہ کے ظلم و ستم سے فرار ہو کر ترکی آ گئے تھے اور اب ترکی ان پناہ گزینوں کو ترکی میں نہیں بلکہ شام ہی کی حدود کے اندر جو ان کی اپنی سرزمین ہے، مستقل طور پر آباد کرنا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے اس نے اس پورے علاقے میں امریکہ کے شدید دباؤ کے باوجود فوجی آپریشن کو جاری رکھا ہوا ہے۔

ترکی کے شہر کلیس میں ترک ایمرجینسی ادارے آفاد کے زیر اہتمام قائم شامی مہاجر کیمپ

شامی مہاجرین کو ان کی پر امن زمین لوٹانا ایک مقدس مشن ہے جو ترکی کے جذبہ رحمدلی کو اجاگر کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ کئی چیلنجز بھی درپیش ہوں گے۔ کیا اس بفر زون کو ایران اور روس تسلیم کریں گے اور بشار الاسد کے ظلم و ستم سے یہ خطہ محفوظ رہے گا؟۔ ترکی کو جہاں اس آزاد خطے کی دفاعی، انتظامی اور معاشی امور کو کنٹرول میں رکھنا ہو گا وہیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ اسد رجیم اس خطے کو واپس دمشق کے کنٹرول میں لانے کے لیے حلب اور غوطہ کی طرح حملہ آور نہ ہو بلکہ یہ بفر زون کسی پر امن تبدیلی کا ذریعہ بنے اور شام میں امن بحال ہو سکے۔

٭مصنف آر ٹی ای اردو کے ایڈیٹر انچیف ہیں
تبصرے
Loading...