آپریشن شاخِ زیتون، آفرین (شام) میں ترکی کا آپریشن

0 1,052

ہفتہ کے روز ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اعلان کیا کہ ترکی آفرین میں آپریشن کا آغاز کر رہا ہے۔ جہاں کرد "پی کے کے” کی شامی شاخ "پی وائے ڈی اور وائے پی جی”  2014ء سے قبضہ کئے ہوئے ہیں۔

زمینی کاروائیوں کو آپریشن شاخِ زیتون کا نام دیا گیا ہے جو ترکی کی کرد دہشتگرد تنظیموں کے خلاف جنگ کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، ان دہشتگرد تنظیموں کو امریکہ ‘بارڈ سیکیورٹی’ کے دھویں میں ایک باقاعدہ فوج میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

ترکی کے شام میں اس دوسرے بڑے آپریشن کے کئی مقاصد ہیں:

سب سے پہلا مقصد تو یہ ہے ترکی "پی کے کے” کی شمالی شام، خصوصاً آفرین میں موجودگی کو علاقائی استحکام کے خلاف خطرہ سمجھتا ہے۔ کرد دہشتگرد تنظیم کی کوشش رہی ہے کہ ترک اور شام کی سرحد پر ایک زمینی اکائی تخلیق کی جائے۔ حال ہی میں داعش کے خلاف امریکی سربراہی میں قائم اتحاد نے اس دہشتگرد تنظیم کے ساتھ مل کر اسے ایک فوج میں بدلنا، ان کوششوں کا ایک حصہ بن سکتی ہے۔

مزید یہ ہے کہ "پی کے کے” تنظیم کی شامی علاقے آفرین کی موجودگی کے نتیجے میں ترک عوام اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف حالیہ سالوں میں دہشتگرد کاروائیاں جاری رہی ہیں۔ جنوبی ترکی خصوصاً ہیتھے میں ہونے والی کئی کاروائیاں میں "پی کے کے” ملوث رہی ہے۔ تورس کے پہاڑوں پر بیٹھ کر "پی کے کے” ترکی کے بحرہ روم کے ساحلی علاقوں میں اپنی دہشتگرد کاروائیاں آسانی سے پھیلا سکتی ہے۔

نتیجتاً ترک فوج کے اس آپریشن کا اولین مقصد آفرین کو "پی کے کے- پی وائے ڈی” سے آزاد کروانا ہے جو مقامی آبادیوں پر اپنا تسلط قائم کئے ہوئے ہیں۔ اس دہشتگرد تنظیم کی مقامی انتظامیہ کو کاٹ کر ترکی وہاں کی مقامی آبادی کو اپنا علاقہ سنبھالنے کے لیے ضروری حالات فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ترکی آفرین کے سماجی فیبرک اور معاشی انفرا اسٹرکچر کو بھی قائم کرنا چاہتا ہے ہے تاکہ شہر میں مضبوط استحکام لایا جائے۔ اس استحکام سے مقامی کرد جو خون و جنگ زدہ علاقے چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے وہ واپس اپنے گھروں اور آبادیوں میں آسکیں گے۔ یہی وجہ سے کہ ترکی کے آپریشن کو وہاں کے مقامی لوگوں نے خوش آمدید کہا ہے۔

آفرین کی تعمیر نو کے لیے ترکی کے پاس بہترین تجربہ موجود ہے۔ اس سے قبل اس نے جرابلس اور الباب کو دہشتگردوں سے پاک کر کے مقامی آبادی کے حوالے کیا تھا۔

تبصرے
Loading...