استنبول کا عثمانی حمام 35 لاکھ ڈالرز میں فروخت کے لیے پیش

0 500

استنبول کے تاریخی علاقے سلطان احمد کے قلب میں واقع 550 سال قدیم عثمانی حمام مالک کی جانب سے فروخت کے لیے پیش کردیا گیا ہے، وہ بھی 35 لاکھ ڈالرز کی بھاری قیمت کے ساتھ۔

اسحٰق پاشا حمام – جو آیا صوفیہ اور نیلی مسجد سے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر ہے – تقریباً 100 سال سے زیرِ استعمال نہیں ہے اور اس لیے فی الوقت شکست و ریخت کا شکار ہے۔ یہ سلطان محمد ثانی کے دور میں قائم کیا گیا تھا، وہی جنہوں نے 1453ء میں قسطنطنیہ فتح کیا اور سلطان محمد فاتح کہلائے۔

اس حمام کی دیواریں گرنے کے قریب ہیں، لیکن بھی اس میں عثمانی عہد کی باقیات موجود ہیں یعنی استنبول کے ابتدائی دنوں کی۔ اس کی گنبد نما چھت، مقرنس، کھڑکیاں اور شیشے کے روشن دان کلاسیکی عثمانی طرزِ تعمیر کی علامات ہیں۔

اس تاریخی مقام کی اوپر سے لی گئی تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ بیشتر دیواریں اور چھتیں پیڑوں اور پودوں سے ڈھکی ہوئی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ان پر پھوٹے ہیں۔ عمارت کے اندر بھی کوڑا کرکٹ پڑا ہوا ہے۔

حمام کے قریب اپنا کاروبار کرنے والے تاجروں کا کہنا ہے کہ خزانوں کے متلاشی یہاں آتے ہیں اور اس کے ملبے میں سونا تلاش کرتے رہتے ہیں۔

اس تاریخی حمام کو فروخت کرنے کے لیے سیلز کنسلٹنٹ کا کام کرنے والے سنان یلدرم کا کہنا ہے کہ مالک نے فروخت کے لیے علاقائی ڈائریکٹوریٹ آف فاؤنڈیشنز سے بھی رابطہ کیا ہے۔ یلدرم کا کہنا ہے کہ گو کہ مالک خاندان اسے فروخت کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی خواہش ہے کہ اس حمام کو بحال کیا جائے اور دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے۔ "ان کا کہنا ہے کہ وہ اس حمام کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں ہے جبکہ ان کی جگہ کوئی سرمایہ کار یا حکومت ایسا کر سکتی ہے۔” یلدرم کا کہنا ہے کہ برائے فروخت قرار دینے پر اردگرد کے افراد کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے کہ جن کا کہنا ہے کہ "کوئی تاریخ کو کیسے فروخت کر سکتا ہے۔”

لیکن ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مالک نے ممکنہ سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ اس حمام کے ڈھانچے کو گرایا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقام بحالی کے منصوبے کی تیاری کے بعد بھی کاروبار کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

حمام صدیوں تک روزمرہ ترک زندگی اور ثقافت کا اہم حصہ رہے ہیں، اس لیے بیرونِ ممالک میں انہیں کہا ہی "ترک حمام” جاتا ہے۔

تاریخی طور پر یہ مقامات صرف نہانے اور آرام کے لیے ہی نہیں تھے بلکہ یہ سماجی مراکز بھی تھے۔ البتہ آج ترکی میں بہت کم افراد حماموں میں جاتے ہیں، کیونکہ جدید دور میں گھر پر غسل خانوں کا رواج عام ہو چکا ہے اور قدیم حماموں کے بجائے جدید اسپاز مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

ترکی میں مقبول ترین حمام استنبول اور شمالی صوبہ بورصہ میں ہیں کہ جو خود بھی کبھی عثمانی دارالحکومت تھا۔

تبصرے
Loading...