استنبول ایک بار پھر سلطنت عثمانیہ کی علامت گل لالہ سے مہک اٹھا

0 3,391

ترک شہری پھولوں سے خصوصی شغف رکھتے ہیں۔ پارکوں اور باغات میں ہی نہیں گھروں اور باغیچوں میں بھی پھولوں کی مختلف اقسام سجائی جاتی ہیں۔ ماؤں اور بوڑھی عورتیں خاص طور پر ان کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور ان بچے اپنا فالتو وقت پھولوں کو دیتے ہیں۔

خواتین پھولوں والے کپڑے زیب تن کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ ایک پوٹریٹ میں فاتح استنبول سلطان محمد کے ہاتھ میں پھول اس کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ ترکی میں پھولوں پر لڑکیوں کے نام کثرت سے رکھے جاتے ہیں۔

پرانے زمانے میں ترک مرد اپنی ٹوپی پر پھول سجاتے تھے اور عورتوں کی قبریں پھولوں کے پودوں سے ڈھانپ دی جاتی تھیں۔

دوسرے لفظوں میں پھول ہمارے ماحول کی دلکشی کا باعث ہی نہیں بنتے بلکہ دلوں کو گداز بھی کرتے ہیں۔ سلطنت عثمانیہ کے عہد کو پھولوں کی تہذیب کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

ترکی کی علامت

روحانی طور پر عموماً دو پھولوں کے نام لیے جاتے ہیں، گلاب اور گل لالہ۔ گلاب کو آنحضرت محمد ﷺ کی علامت جبکہ گلِ لالہ    خالق، اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے گلاب کو آنحضرت محمد ﷺ کے نور سے پیدا کیا گیا۔ اس کی خوشبو آپ ﷺ کی خوشبو ہے۔ جبکہ گل لالہ اللہ تعالیٰ کے عربی رسم خط اللہ جیسا دکھائی دیتا ہے۔

دلچسپ طور پر دونوں نام عثمانی زبان میں ایک طرح کے الفاظ سے لکھے جاتے ہیں۔ مسجد کی طرح، گل لالہ کا کھلنا گنبد کی طرح لگتا ہے اور اس کے پتے مسجد کے مینار لگتے ہیں۔

گل لالہ اللہ تعالیٰ کی وحدت کا اظہار کرتا ہے کیونکہ یہ بھی صرف ایک بیج اور ایک ٹہنی پر ہی کھلتا ہے۔

گل لالہ ایرانی المناک محبت "خسرو اور شیریں” کے حوالے سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔

خسرو اپنی محبوبہ شیریں کی موت کو برداشت نہیں کر پاتا اور خود کشی کر لیتا ہے۔ جب اس کا خون زمین پر گرتا ہے تو وہ پھول بن جاتا ہے۔ گل لالہ کا کھلتا ہوا سرخ رنگ خسرو کے جلتے ہوئے پیار کا اظہار سمجھا جاتا ہے جبکہ سیاہ حصہ اس کے پیار سے راکھ بننے کی علامت ہے۔ اسی طرح فرانسیسی للی، برطانوی دودھی تھسل اور لبنانی دیوداروں کی طرح گل لالہ عثمانی عہد کی علامت ہے۔

عثمانی عہد کے جوتوں اور کپڑوں کو گل لالہ کے پرنٹ سے سجایا جاتا تھا۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا کہ سلطنت عثمانیہ کو مشہور شاعر یحیی کمال کی طرف سے "گل لالہ کا عہد” بھی کہا گیا۔

گل لالہ کی ایک گٹھی کی قیمت 1000 سونے کے سکے

سلطنت عثمانیہ میں گل لالہ کا رواج 15 صدی عیسوی میں شاہ سلیمان کے دور میں شروع ہوا۔ اس وقت مصنوعی چناؤ اور دوغلائیت کے تحت گل لالہ دوسرے پھولوں کے ملاپ سے پیدا کیا جاتا تھا۔  اس خوبصورت پھول کا کھلنا اس کے خنجر جیسے پتے اور تلوار جیسی نوک بادام جیسا لگتا تھا۔ تب گل لالہ کی کسی اقسام پیدا کی گئیں۔ انہیں شوخ نام دئیے گئے جیسے "سوئے یاقوت”، "نور سفید”، "رخ محبوب”، "صبح بہار” اور "ناوک گلشن”۔ لوگ گل لالہ کے مقابلے منعقد کروایا کرتے تھے۔

اسی طرح کے ایک مقابلے میں شیخ الاسلام ابوسعود آفندی کی طرف سے اگائے گئے "نور عدن” نے مقابلہ جیت لیا۔ گل لالہ کے باغات جنہیں لالہ زار کہا جاتا تھا بہت معروف تھے۔ گل لالہ پر لکھی گئی شاعری کو "لالہ نامہ” میں اکٹھا کیا گیا۔ اس کے علاوہ گل لالہ پر تحقیق و تعلیم کے لیے ایک خصوصی اکیڈمی بھی بنائی گئی۔ ایک ایرانی گل لالہ کی گٹھی جسے دوھاتری کہا جاتا تھا اس کی قیمت ایک ہزار سونے کے سکے تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ گل لالہ کی قیمت بڑھتی گئی حتی کہ سلطان احمد سوئم کو قیمتوں کی کمی کا باقاعدہ حکم جاری کرنا پڑا۔ 1725ء میں گل لالہ کی 306 اقسام میں "رومانی” سب سے مہنگی ترین قسم تھی۔

گل لالہ کا یورپ کی جانب سفر

یورپ میں پہلا گل لالہ استنبول سے جرمن کانوائے اوگیار غصالن نے 1562ء میں ویانا بھیجا۔ یورپی باشندے جلد ہی اس سے پیار کرنے لگے اور اس کا نام "ٹیولپ” رکھ دیا جو فارسی کے لفظ "تربند” سے نکالا گیا۔ وہاں سے گل لالہ ہالینڈ پہنچا جہاں ایک پودے کو ایمسٹرڈیم میں ایک مکان کی قیمت میں پیچا جاتا تھا۔ لوگوں کے سماجی درجہ بندی ان کے باغیچے میں اگنے والے گل لالہ کی قسم سے کی جاتی تھی۔

جب گل لالہ کی مارکیٹ زوال پزیر ہوئی تو راتوں رات کئی امراء غریب ہو گئے۔ 1634ء اور 1637ء کے سالوں کو "ٹیولپ مانیا” کہا جاتا ہے۔ الیگزینڈر کی جانب سے "سیاہ گل لالہ” اسی دور میں لکھی گئی تھی۔

آج بھی ہالینڈ کی گل لالہ مارکیٹ اتنا زر مبادلہ کماتی ہے جتنا کہ ترکی کی غیر ملکی تجارت۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد برطانوی ملکہ ایلزبیتھ دوئم نے شکرانہ کے اظہار کے لیے گل لالہ کا گلدستہ کینیڈا بھیجا۔

صدر رجب طیب ایردوان کے دور میں استنبول میٹروپولیٹن نے گل لالہ کو استنبول میں واپس لانے کا عزم کیا۔ دو سال قبل استنبول میں گل لالہ فیسٹیول منایا گیا۔ اس کے علاوہ کئی کانفرنس اور ورکشاپس منعقد کی گئیں۔ مسجد سلطان احمد کے احاطے میں گل لالہ کا دنیا کا سب سے بڑا بیڈ بنایا گیا۔ شہر میں جگہ جگہ گل لالہ کے باغات بنائے گئے ہیں۔

اپریل کے آتے ہی ایک بار پھر استنبول میں گل لالہ چار طرف کھل چکے ہیں اور آپ تک یہ معلومات پہنچانے کا ذریعہ بنے ہیں۔

تبصرے
Loading...