ہم بحیرۂ روم میں اپنے حقوق کو غصب ہونے سے بچانا چاہتے ہیں، صدر ایردوان

0 281

آق پارٹی کے صوبائی صدور سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے لیبیا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہمارا ہدف مشرقی بحیرۂ روم میں کسی کے حق پر قبضہ جمانا نہیں، بلکہ اس کے بجائے اپنے حقوق غصب ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔ اگر ہم یہ قدم نہیں اٹھاتے تو ترکی کے ساحل کو محدود کرنے کی سازش تیار ہو رہی تھی۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایسی سازشوں کے سامنے ہم خاموش بیٹھے رہیں کہ جو ہمارے مچھلیاں پکڑنے جیسے معمولی کام تک سے روکنے کی کوشش کریں۔”

صدر اور انصاف و ترقی (آق) پارٹی کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے انقرہ میں آق پارٹی کے صوبائی صدور سے خطاب کیا۔

"یورپی ممالک کو ادلب میں امن کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے”

ادلب میں شامی حکومت کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ” ان حملوں سے تقریباً ایک لاکھ افراد بچنے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں اور ہماری سرحدوں کی جانب سفر شروع کر چکے ہیں۔ ہم پوری دنیا کو بتا چکے ہیں، خاص طور پر یورپ کو، کہ ہم مہاجرین کی نئی لہر کو نہیں سنبھال سکتے، اور اگر ادلب میں ترکی کی کوششوں کو نظر انداز کیا گیا تو سب کا نقصان ہوگا۔ یورپی ممالک کو بھی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی کہ ادلب میں امن لائیں کہ جہاں 40 لاکھ افراد بستے ہیں۔”

"لیبیا کے ساتھ ہمارا معاہدہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے”

لیبیا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ "ہمارا ہدف مشرقی بحیرۂ روم میں کسی کے حق پر قبضہ جمانا نہیں، بلکہ اس کے بجائے اپنے حقوق غصب ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔ اگر ہم یہ قدم نہیں اٹھاتے تو ترکی کے ساحل کو محدود کرنے کی سازش تیار ہو رہی تھی۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایسی سازشوں کے سامنے ہم خاموش بیٹھے رہیں کہ جو ہمارے مچھلیاں پکڑنے جیسے معمولی کام تک سے روکنے کی کوشش کریں۔ درحقیقت ہمارا قدم بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی ایسے ہی منصوبے موجود ہیں۔”

تبصرے
Loading...