ہم اپنے بچوں کو سکھانا چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا کیسے شعوری استعمال کرنا ہے، ایردوان

0 218

چوتھی عالمی ٹیکنالوجی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "ہم کسی صورت اجازت نہیں دے سکتے کہ ٹیکنالوجی ہمارا مقصد زندگی بن جائے۔ اسے اس حد تک رکھنا ہے کہ یہ انسانی زندگی کو سہولت دینے کا آلہ بنے۔ آج کا سب سے بڑا خطرہ جو ہمیں درپیش ہے وہ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجیکل آلات ہیں جو انسانی شعور و عقل کی پیدوار ہیں۔  اس صورت کہ ہم انہیں اسی وجودی سطح پر رکھ دیں جس پر خود انسان بیٹھا ہےاور ان سے ویسا ہی برتاؤ اور سلوک کریں جیسا باقی انسانوں سے کرتے ہیں”۔

صدر رجب طیب ایردوان نے چوتھی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔ جس کا اہتمام ترک گرین کریسنٹ (Yeşilay) کی جانب سے استنبول میں کیا گیا۔

تقریب میں خاتون اوّل امینہ ایردوان، نائب وزیر اعظم رجب اکداغ، وزیر برائے توانائی و معدنیات بیرات البیراک اور ان کی اہلیہ اسریٰ البیراک اور آق پارٹی کے ممبر اسمبلی نبی اوجی نے شرکت کی۔

ہر ایجاد کی پشت پر موجود ذہنیت اور ایک ورلڈ ویو جو اس ایجاد میں وجود میں لاتی ہےصدر ایردوان نے کہا کہ تباہ کن ہتھیاروں جیسے کہ ایٹم بم اور نیوکلیئر میزائلوں میں مسلمانوں کا آگے بڑھنے کی کوششیں نہ کرنے کی پہلی اور سب بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مسلمان ذہنیت سے میل نہیں کھاتی جس سے وہ انسانیت اور فطرت بارے اپنے خیالات ترتیب دیتے ہیں۔

ہمیں ٹیکنالوجی کو وہ آلہ بننے سے روکنے کی جنگ لڑنا ہو گی جس سے یہ انسان کو اسکی اپنی پیدا شدہ قیامت میں دھکیل دے

دنیا میں چلنے والی پاور گیم میں یہ ہتھیار ملکوں کی ضرورت بن جاتے ہیں اگرچہ وہ اسے پسند ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔ صدر ایردوان نے کہا: "ہم حقیقی طور پر اس ذہنیت کے خلاف ہیں جو جوہری بم پیدا کرتی ہے۔ اور اور بے گناہ لوگوں کے خلاف اسے استعمال کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ اور اسے اتنا ہی نا پسند کرتے ہیں جتنا خود جوہری بم کو”۔ انہوں نے کہا: "جب ہم ان ذہنیتوں کو دیکھتے ہیں جو آج جوہری ہتھیاروں اور نیوکلیئر وار ہیڈز رکھنے پر پابندی کی بات کرتے ہیں۔ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں ایک کے پاس 15000 سے 16000 جوہری بم موجود ہیں۔ جب کے دوسرے کے پاس 12500 نیوکلیئر بم ہیں۔ ایک اور کے پاس 7500 جوہری بم ہیں۔ تاہم وہ کہتے ہیں ‘آپ یہ نہیں رکھ سکتے’۔ دوسری طرف انہوں نے خود ڈھیر لگا رکھے ہیں۔ اور ان کی تعداد خطرناک ہے۔ دوسری طرف ان کے پاس یہ حق بھی ہے کہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں اسے استعمال کریں۔ اور دوسروں کو کہتے ہیں کہ وہ اسے نہیں رکھ سکتے۔ وہ فورا دوسروں پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جہاں سے مسائل شروع ہوتے ہیں۔ یہ بھی ایک قسم کی عادت ہے۔ ہم بس اس کو دیکھنا ہے۔ میں اس کو ذہنی عادت کا نام دوں گا۔ ہمیں ٹیکنالوجی کو وہ آلہ بننے سے روکنے کی جنگ لڑنا ہو گی جس سے یہ انسان کو اسکی اپنی پیدا شدہ قیامت میں دھکیل دے”۔

ہمارا صرف آج ہی نہیں، بلکہ زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہمارا کل بھی خطرے میں ہے

بچوں، نو عمروں اور جوانوں میں ٹیکنالوجی کی عادت پنپنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ جامعات میں زیرِتعلیم 13 فیصد طلبہ و طالبات انٹرنیٹ کے کثرتِ استعمال کے عادت کا شکار ہیں جبکہ 12 سے 18 سال کے 22 فیصد بچے اس عادت میں مبتلا ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ترک صدر نے کہا: "آپ چاہے فیصلہ ساز ہوں، والدین ہوں، معلم ہوں یا ایک ذمہ دار فرد کسی بھی حیثیت میں ہم ہونے والے واقعات کے منفی پہلوؤں سے منہ نہیں موڑ سکتے۔۔ اگر اس مسئلے کا جلد تدارک نہ کیا گیا تو معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ نہ صرف ہمارا آج بلکہ آنے والا کل بھی خطرے کی زد میں ہے۔ اس معاملے میں اگرچہ دیگر ممالک کی نسبت ترکی میں حالات اتنے خراب نہیں ہیں مگر دراصل خطرہ ہماری طرف ایسے ہی آ رہا ہے جیسے پہاڑ سے لڑھکتا ہوا ایک برفانی تودے تیزی سے آتا ہے۔

ہم اپنے بچوں کے مسائل اس وقت تک حل نہیں کر سکتے جب تک ذہنی طور پر ان کے ساتھ ہم دل نہیں ہو جاتے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نصحیت یاد دلاتے ہوئے "اپنے بچوں کی تربیت و پرورش اس دور کے مطابق نہ کرو جس میں رہ رہے ہو بلکہ اس زمانے کے مطابق کرو جس میں وہ رہیں گے”۔ ترک صدر نے کہا: "اس مسئلے سے ہمیں اس نصحیت کے مطابق نبٹنا چاہیے۔ اور میرے خیال میں جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ ہمارے بچوں، نواسوں اور نئی نسل سے ہمارے بات چیت اور برتاؤ میں ہے”۔

رجب طیب ایردوان نے نوجوانوں کی نفسیات سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا: "ہم کسی صورت اجازت نہیں دے سکتے کہ ٹیکنالوجی ہمارا مقصد زندگی بن جائے۔ اسے اس حد تک رکھنا ہے کہ یہ انسانی زندگی کو سہولت دینے کا آلہ بنے۔ آج کا سب سے بڑا خطرہ جو ہمیں درپیش ہے وہ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجیکل آلات ہیں جو انسانی شعور و عقل کی پیدوار ہیں۔  اس صورت کہ ہم انہیں اسی وجودی سطح پر رکھ دیں جس پر خود انسان بیٹھا ہےاور ان سے ویسا ہی برتاؤ اور سلوک کریں جیسا باقی انسانوں سے کرتے ہیں”۔

تبصرے
Loading...