ترکی میں سرمایہ کاری کے خواہش مندوں کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں، صدر ایردوان

0 352

نیو یارک میں 10 ویں ترکی انوسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ترکی میں سرمایہ کاری کے خواہش مند بین الاقوامی اداروں کا تقریباً روزانہ ہی خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ امریکی ادارے بھی وہ فوائد سمیٹیں جو ہم بین الاقوامی سرمایہ کاری پر ان اداروں کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ ہمارے دروازے ہر اس ادارے کے لیے کھلے ہیں جو ترکی میں سرمایہ کاری کرے اور روزگار کے مواقع دے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے نیو یارک میں ترکی-امریکابزنس کونسل کی جانب سے منعقد کی گئی 10 ویں ترکی انوسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کیا۔

"ہم ترکی اور امریکا کی توجہ مثبت ایجنڈے پر رہنے کے خواہاں ہیں”

ترکی اور امریکا کے اتحاد کو باہمی دلچسپی کی بدولت مضبوط، جامع اور تزویراتی قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "گو کہ وقتاً فوقتاً رائے میں اختلاف پایا گیا ہے لیکن ہماری شراکت ان تمام مشکلات سے نمٹتی آئی ہے۔ حالیہ کچھ عرصے میں ایسا وقت بھی گزرا کہ جس میں ترکی-امریکا تعلقات کا بہت کڑا امتحان ہوا۔ لیکن باہمی گفتگو اور اپنے خاص دوست ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رکھے گئے رابطے کی بدولت ہم اس تکلیف دہ دور سے نکل رہے ہیں۔ بلاشبہ کچھ حلقے اس صورت حال سے مطمئن نہیں۔ دو رہنماؤں کی حیثیت سے دونوں ملکوں کے مابین مثبت ایجنڈے پر توجہ چاہتے ہیں، جس کا ایک اہم ترین پہلو معاشی و تجارتی تعلقات کو اس سطح پر لانا ہے کہ وہ حقیقی صلاحیت کے عکاس ہوں۔”

"باہمی تجارت کو مضبوط کرنے کے خواہش مند ملکوں کو ایک دوسرے کی راہ میں روڑے نہیں اٹکانے چاہئیں”

ترکی اور امریکا کے مابین 21 ارب ڈالرز کے تجارتی حجم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "صاف صاف کہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم دونوں حکومتوں کی باہمی کوشش، تائید اور دونوں صدور کے مضبوط ارادوں کی مدد سے 100 ارب ڈالرز کا ہدف بہت جلد حاصل کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو اپنے ذہنوں میں واضح کرلیں کہ جو ملک باہمی تجارت کو مضبوط کرنے کے خواہش مند ہوں انہیں ایک دوسرے کی راہ میں روڑے نہیں اٹکانے چاہئیں۔ ہماری خواہش ہے کہ امریکا ترکی کے خلاف اٹھائے گئے چند اقدامات پر نظر ثانی کرے اور ان کا خاتمہ بھی کرے۔ خاص طور پر ہماری فولاد اور ایلمونیم کی برآمدات پر محصولات میں جو اضافہ کیا گیا ہے اور یہ جو ہمیں امریکا کے نظامِ ترجیحات سے نکالنے کا فیصلہ ہے، انہیں لازماً واپس لینا چاہیے۔”

"ترکی خطے میں استحکام کی علامت ہے”

15 جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد ترک معیشت کے حوالے سے ایک متعصبانہ اور جان بوجھ کر چلائی گئی مہم کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ” ترکی عالمی کساد بازاری اور قرب و جوار میں سیاسی، سلامتی اور انسانی بحران کے باوجود خطے میں استحکام کی علامت ہے۔ ترک معیشت کے اشاریے اور بنیادی مضبوط و طاقتور ہیں۔ اس کو تقویت اس حقیقت سے ملتی ہے کہ ترکی میں 2002ء کے بعد سے اب تک براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 215 ارب ڈالرز سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔”

"15 جولائی 2016ء کی بغاوت ترک جمہوریت کے خلاف سب سے دہشت گردی تھی”

ترکی نے پچھلے 17 سالوں میں جمہوریت پر ہونے والے کئی حملوں کو ناکام بنایا ہے جبکہ اسی دوران اپنی معیشت کو مضبوط کیا اور شہریوں پر ترقی کے دروازے بھی کھولے۔ صدر ایردوان نے فتح اللہ دہشت گرد تنظیم (FETO) کی جانب سے 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کو ترک جمہوریت کے خلاف سب سے بڑی دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا۔ FETO کے خلاف جدوجہد کو آخری باغی کو انصاف کے کٹہرے میں لانے تک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ FETO کے رہنما پنسلوینیا میں ایسے زندگی گزار رہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، حالانکہ ہم نے تمام تر ثبوت پیش کیے، یہ ہمارے لیے بحیثیت قوم بھی افسوس ناک ہے اور شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے بھی۔ یہ اس امر کے بھی خلاف ہے کہ امریکا خود کو مضبوط ترین جمہوریت اور آزادی کا علم بردار کہتا ہے لیکن جمہوریت کو نشانہ بنانے والوں کو گلے لگاتا ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر زور دے رہا ہوں کہ ہمیں امریکی حکام سے یہ امید ہے کہ وہ اس معاملے پر ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔”

"ہم امریکی اداروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ترکی کی جانب سے پیش کردہ رعایتوں کا فائدہ اٹھائیں”

ترکی کی نوجوان اور پڑھی لکھی آبادی کی زبردست صلاحیتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی میں سرمایہ کاری کا ماحول زبردست مواقع رکھتا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل مدد فراہم کی جائے گی۔ "ہم ترکی میں سرمایہ کاری کے خواہش مند بین الاقوامی اداروں کا تقریباً روزانہ ہی خیر مقدم کرتے ہیں،” صدر ایردوان نے کہا۔ ” ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ امریکی ادارے بھی وہ فوائد سمیٹیں جو ہم بین الاقوامی سرمایہ کاری پر ان اداروں کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ ہمارے دروازے ہر اس ادارے کے لیے کھلے ہیں جو ترکی میں سرمایہ کاری کرے اور روزگار کے مواقع دے۔”

تبصرے
Loading...