ہزاروں سال تک خون پسینے سے سینچی گئی سرزمین اب ہماری نشاۃ ثانیہ دیکھے گی، رجب طیب ایردوان

0 722

فتحِ ملازکرد کے 948 سال مکمل ہونے پر خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "اناطولیہ ہمارے لیے ایک عظیم مقصد کی سرزمین ہے، اور ہمارا مقصد ہمیشہ تعمیری رہا ہے۔ ہماری یہ سرزمین، جسے ہم نے ہزاروں سال تک اپنے خون پسینے سے سینچا ہے، ہماری نشاۃ ثانیہ اور عروج، ہماری تہذیب کے احیاء اور ایک عظیم اور طاقتور ترکی کی تعمیر کی گواہ بنے گی۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے فتحِ ملازکرد کے 948 سال مکمل ہونے پر خطاب کیا۔

"اناطولیہ ہمارے لیے ایک عظیم مقصد کی سرزمین ہے، اور ہمارا مقصد ہمیشہ تعمیری رہا ہے۔ ہماری یہ سرزمین، جسے ہم نے ہزاروں سال تک اپنے خون پسینے سے سینچا ہے، ہماری نشاۃ ثانیہ اور عروج، ہماری تہذیب کے احیاء اور ایک عظیم اور طاقتور ترکی کی تعمیر کی گواہ بنے گی۔ ہر سال ملازکرد میں ہونے والا یہ اجتماع ہمیں عظیم مقاصد کو ذہنوں میں تازہ رکھنے اور اپنے دلوں کو عزم سے لبریز کرنے میں مدد دے گا۔”

صدر ایردوان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے آپریشنز Claw I-II-III کا حوالہ دیا اور کہا کہ "ہم اپنی سرحدوں کے اندر اور سرحدوں سے باہر بھی دہشت گردوں کا اُن کے غاروں تک تعاقب کریں گے۔”

شام میں دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر عراقی سرحد کے ساتھ ساتھ ایک سیف زون کے قیام پر مرحلہ وار پیش رفت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "خطے کے حوالے سے منصوبوں کی پیچیدگی اور عیارانہ پھندوں کی موجودگی نہ کبھی ہمیں اپنے راستے سے روک پائی ہے اور نہ ہی کبھی ایسا ہو سکے گا۔”

"ہم اپنی شامی سرحد کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا عزم رکھتے ہیں”

دریائے فرات کے مشرقی میں واقع علاقوں کے مسائل ہمارے قومی و ملکی احساس کے مطابق حل ہوں گے بالکل جیسے دیگر "لاینحل، ناقابلِ رسائی، ناقابلِ نفوذ” مسائل حل ہوئے، صدر ایردوان نے ترکی کی بنیادی ترجیح کے طور پر سفارت کاری، مذاکرات اور معاہدوں کی جانب اشارہ کیا۔ "اگر ہم میدانِ عمل میں نتیجہ حاصل کر سکے تو یہ اچھی بات ہے۔ یہ راستہ سب کے لیے زیادہ سود مند ہوگا۔ البتہ اگر ہم ایسے راستے کا رخ کرنے پر مجبور کردیے گئے یا ہمیں روکنے کی کوشش کی گئی تو ہماری تیاریاں مکمل ہیں۔ ہم اپنے منصوبوں کو عملی صورت میں ڈھال کر رہیں گے۔ ہمارے UAVs، UCAVs اور ہیلی کاپٹرز علاقے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہماری سرحدوں کے قریب واقع چوکیاں تباہ کردی گئی ہیں۔ ہم اپنےزمینی دستوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ جلد علاقے میں داخل ہو جائیں گے۔ جب ہم اپنی زمینی و فضائی طاقت کے ساتھ سرحدیں پار کریں گے تو ہمیں صورت حال کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا اور اس عمل کے مستقبل کا تعین کرنے کا بھی۔ مجھے امید ہے کہ شامی سرحد و دہشت گردوں سے پاک کرنے کے ہمارے عزم میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔”

شامی حکومت کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ادلب میں پیدا ہونے والے مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ انہوں نے اس مسئلے پر روس کے صدر ولادیمر پوتن کے ساتھ بات کی ہے اور وہ 27 اگست کو روس کا دورہ کریں گے۔ یہ کہتے ہوئے کہ وہ ان مسائل کو جلد حل کریں گے، صدر ایردوان نے عراق میں بڑے اقدامات اٹھانے کو بھی ظاہر کیا۔

عراق کی مرکزی حکومت اور شمالی عراق میں انتظامیہ کے تعاون سے کیے گئے آپریشنز سب کے لیے مثبت نتائج لائیں گے، اس پر زور دیتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ "مشرقی بحیرۂ روم میں ہماری ڈرلنگ اور سیسمک سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ کوئی بھی ہمارے لیے وہاں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔”

تبصرے
Loading...