ہمارے بچے دہشتگردوں سے اب مزید نہیں پڑھائے جائیں گے، دیبے کی ایردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

0 36,183

منگل کے روز ترک صدر رجب طیب ایردوان افریقی ملک چاڈ پہنچے جہاں انہوں نے دو طرفہ معاشی اور سیاسی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے چاڈ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا: "چاڈین حکومت فیتو کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ فیتو کی جنگ میں اپنی مدد اور تعاون سے ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا۔ چاڈ میں قائم فیتو کے تمام اسکولوں کو ترکی کی معارف فاؤنڈیشن کے حوالے کے دیا گیا ہے”۔

اس موقع پر چاڈ کے کے صدر ادریس دیبے نے کہا: "ہمارے بچے دہشتگردوں سے اب مزید نہیں پڑھائے جائیں گے”۔

ہم خود کو چاڈ کا بھائی سمجھتے ہیں

ترکی کے لیے چاڈ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ترک صدر ایردوان نے کہا: "ہم خود کو افریقہ کی طرح چاڈ کا بھائی کا بھی سمجھتے ہیں۔ ہم باہمی احترام اور برابری اور دو طرفہ جیت کی بنیاد پر تعلقات اور تعاون کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں”۔ صدر ایردوان نے کہا کہ ان کا یہ دورہ صدیوں پہلے اس خطے کے لوگوں کے ساتھ اپنے تعلق کا احیاء کرے گا۔

دوطرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانا ہو گا

ترکی اور چاڈ کے درمیان 41 سے 42 ملین دو طرفہ تجارتی حجم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے لیے یہ حجم ناقابل قبول ہے جن کی کل آبادی 95 ملین ہے۔ اسے تیزی سے زیادہ کرنا ہو گا۔

چاڈ نے فیتو کے خلاف جنگ میں تعاون کر کے ہم پر احسان کیا ہے

فیتو کے خلاف جنگ میں ترک صدر ایردوان نے چاڈ کا شکریہ ادا کیا اور کہا: "چاڈ حکومت اس عمل میں ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔ فیتو کی جنگ میں اپنی مدد اور تعاون سے ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا۔ چاڈ میں قائم فیتو کے تمام اسکولوں کو ترکی کی معارف فاؤنڈیشن کے حوالے کے دیا گیا ہے”۔

تبصرے
Loading...