لیبیا میں ہماری ترجیح لڑائی کا فوری خاتمہ ہے، صدارتی ترجمان

0 138

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے کہا کہ "لیبیا میں ہماری ترجیح لڑائی کا فوری خاتمہ، جنگ بندی کا اعلان اور تمام فریقین، خاص طور پر ہفتار کے دستوں کو ان پوزیشنوں پر واپس کرنا ہے جہاں وہ اپریل میں تھے۔”

صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے ایوانِ صدر میں صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں بیانات جاری کیے۔

"ہمارا خطہ جنگوں سے اُکتا چکا ہے”

براہِ راست نشر ہونے والی کانفرنس میں صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے کہا کہ "امریکا اور ایران کے مابین تناؤ کی کیفیت آج کابینہ کے اجلاس میں ایجنڈے کے اہم ترین نکات میں سے ایک تھی۔ ہم 3 جنوری کو قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر کڑی نظر رکھتے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جنابِ صدر نے پہلے دن سے، بلکہ واقعے کے بعد ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی سفارت کاری کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ انہوں نے جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اُن سے پہلے امریکا اور قطر کے سربراہانِ مملکت اور آخر میں برطانیہ کے وزیر اعظم سے رابطے کیے اور فون پر گفتگو کی۔ وزیر اعظم دیگر معاملات پر روس کے صدر ولادیمر پوتن سے بھی رابطہ کریں گے کہ جو کل ترکی کے دورے پر آ رہے ہیں۔”

بلاشبہ یہ تناؤ پورے خطے کو متاثر کرے گا۔ جمعے سے، یعنی 3 جنوری سے، جب یہ واقعہ پیش آیا ہم تمام فریقین سے رابطہ کرکے ان سے ضبط کا دامن تھامے رکھنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ ممکنہ اشتعال انگیز اقدامات اور حملے تناؤ اور خطے کی کمزور صورت حال کو مزید بڑھائیں گے۔ یہ ایک لاحاصل جنگ ہے۔ ہمارا خطرہ واقعتاً جنگوں، تنازعات اور خاص طور پر بیرونی مداخلتوں اور پراکسی وارز سے اُکتا چکا ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ ان تنازعات کا خاتمہ کیا جائے۔ البتہ ہمیں فریقین کی آراء دیکھ کر افسوس ہو رہا ہے چاہے وہ امریکا کی ہوں یا ایران کی۔ ہم عقلِ سلیم کا استعمال کرنے اور ضبط کا دامن تھامے رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اس صورت حال کو قابو میں رکھا جا سکے۔ جنابِ صدر آئندہ دنوں میں اس ضمن میں اپنا گفتگو کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

"سیف زون کے لیے ہمارا کام جاری ہے”

شام کا معاملہ بھی آج کے کابینہ اجلاس کے اہم موضوعات میں ایک تھا۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم جنیوا اور آستانہ معاہدوں کے تحت سیاسی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ادلب کے علاقے کی نازک صورت حال پر آج خاص طور پر غور کیا گیا۔ یہ معاملہ نہ صرف ہمارے ایجنڈے پر ہے بلکہ پورے خطے اور عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے کیونکہ روس کی حمایت یافتہ حکومت کے حملے بہت شدید ہیں۔ یہ آستانہ اور استنبول معاہدوں کی خلاف ورزی ہے کہ جس پر پچھلے سال اتفاق کیا گیا تھا۔ ہم ایک مرتبہ پھر ان حملوں کو روکنے اور روسی فریقین کی جانب سے حکومت کو ایسا کرنے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ بالکل واضح ہے کہ شامی حکومت روس کی فضائی مدد کے بغیر زمین پر آگے ہیں بڑھ سکتی۔ ایک ممکنہ سیاسی اور انسانی بحران جاری ہے اور مہاجرین کی نئی لہر پورے خطے کومسائل سے دوچار کرے گی۔ ہزاروں شامی باشندے ہمارے ملک کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جو ہمارے ایجنڈے پر اہم ترین نکات میں سے ایک ہے۔ گو کہ ہم نے ان لوگوں کی انسانی امداد اور علاج کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے ہیں، لیکن درحقیقت یہ معاملہ ادلب اور ترکی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ادلب ان مسائل میں سے ایک ہے جن پر ہم میدانِ عمل میں کام بھی کر رہے ہیں اور جس کے حوالے سے صدر رجب طیب ایردوان روسی صدر پوتن سے بات بھی کریں گے۔

سیف زون پر ہمارا کام جاری ہے۔ متعلقہ وزارتوں نے اس حوالے سے تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ راس العین اور تل ابیض میں امن کی صورت حال موجود ہے، جسے ہم نے آپریشن چشمہ امن کے دوران محفوظ بنایا۔ میں یہ بھی کہہ سکتے ہوں کہ آفرین کے علاقے میں بھی امن ہے، جسے ہم نے آپریشن شاخِ زیتون میں محفوظ کیا تھا۔ لوگ مرحلہ وار ان مقامات میں واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ میں پہلے ہی اعداد و شمار دے چکا ہوں؛ تقریباً 3 لاکھ 63 ہزار شامی رضاکارانہ طور پر ان علاقوں میں واپس آئے ہیں، جن میں آپریشن شاخِ زیتون کے بعد آنے والے مہاجرین بھی شامل ہیں۔

میں ایک مرتبہ پھر بتانا چاہوں گاکہ PYD/YPG دہشت گرد تنظیم کی سرگرمیاں، امریکی پشت پناہی کے ساتھ، جاری ہیں۔

"ہفتار کے دستے لیبیا میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں”

اجلاس کے ایجنڈے کا ایک اور اہم معاملہ لیبیا تھا۔ آپ بھی لیبیا میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ روز ایک ملٹری اسکول پر حملہ، سرت میں ہونے والے واقعات، ایک مرتبہ پھر ظاہر کر رہے ہیں کہ ہم اپنے انتباہ اور مطالبات میں کتنے برحق ہیں۔ ہفتار کے دستے اپریل میں طرابلس اور بن غازی کے مابین ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، اور لیبیا پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جب تک اس صورت حال کو روکا نہیں جائے گا لیبیا میں سیاسی عمل دسترس سے باہر ہی رہے گا اور مزید خون بہے گا۔ جو لیبیا کی حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنے پر ترکی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں علی الاعلان بتائیں کہ لیبیا میں جنگجو فریق کون ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور جس کے نام پر گزشتہ روز حملے کیے گئے ہیں کہ جن میں 40 زیر تربیت فوجی مرے ہیں۔ ترکی دراصل لیبیا تنازع میں توازن لانے کی کوشش کر رہا ہے اور ایک سیاسی عمل کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ اس کے باوجود ہمیں اندرون و بیرون ملک سے تنقید کا سامنا ہے۔

تو ہم پوچھتے ہیں کہ "مسئلے کا حل کیا ہے؟” جس کا ہمیں کوئی جواب نہیں ملتا۔ بالفاظِ دیگر ہفتار کے دستے حملے کے بعد فرار ہو جاتے ہیں اور بین الاقوامی برادری ان کی مذمت بھی نہیں کرتی۔ دوسری جانب ترکی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ جس کے خصوصی منصوبے ہیں جو سفارت کاری اور سیاسی عمل کی راہ ہموار کر رہے ہیں اور فریقین کے مابین معاہدوں کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ لیبیا میں ہماری ترجیح تمام فریقین کے مابین تنازعات کا خاتمہ اور جنگ بندی کا اعلان ہے، خاص طور پر ہفتار کی افواج کے لیے کہ وہ اپنی اپریل کی پوزیشنوں پر واپس جائیں۔

"ترک اسٹریم ترکی کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں بڑا حصہ ڈالے گا”

اجلاس کا ایک اور اہم ایجنڈا ولادیمر پوتن کے دورۂ ترکی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کل سے ترک اسٹریم کا بھی افتتاح کیا جا رہا ہے۔ ترک اسٹریم، جو توانائی کے میدان میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ ترکی کو روسی گیس یورپ تک پہنچانے میں ایک اہم ملک کی حیثیت دے گا۔ یہ دو پائپ لائنز ہیں۔ یہ گیس صرف یورپ کو ہی نہیں پہنچائی جائے گی۔ ہم بھی اس پائپ لائن کے ذریعے گیس حاصل کر سکتے ہیں۔ یوں یہ منصوبہ ترکی کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ترک اسٹریم کے افتتاح کے موقع پر دیگر سربراہانِ مملکت بھی شرکت کریں گے۔

صدر ایردوان کی روسی صدر سے دوبدو ملاقات اور وفود کے اجلاس کے بعد ترک اسٹریم کا افتتاح کیا جائے گا۔ جس کے بعد صدر ایردوان دورہ کرنے والے سربراہانِ مملکت کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔

تبصرے
Loading...