مشرقی بحیرۂ روم میں ہماری ترجیح تنازع کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے، صدر ایردوان

0 151

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی کسی کے بھی حق اور قانونی مفادات کے خلاف کوئی منصوبہ نہیں رکھتا، نہ ہی مشرقی بحیرۂ روم میں اور نہ کسی دوسرے علاقے میں۔ "لیکن ہم اپنے ملک اور ترک قبرص کے حقوق کی خلاف ورزی پر بھی آنکھیں بند نہیں کر سکتے اور اس پر بھی کہ ہم اپنے مفادات کی پروا نہ کریں۔ ہماری ترجیح تنازع کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے وڈیو کانفرنس کے ذریعے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سیشن سے خطاب کیا۔

"انسانیت کے مستقبل کو محدود ممالک کے رحم و کرم پر نہيں چھوڑا جا سکتا”

صدر ایردوان نے کہا کہ میرے خیال میں ‘Covid-19 کے خلاف جنگ اور Multilateralism’ کے موضوع جنرل اسمبلی کا کا انعقاد ایک درست فیصلہ ہے۔ ہم اپنے وعدوں پر عمل کریں گے اور Covid-19 کے خلاف جنگ میں اپنی مدد کو جاری رکھیں گے۔ وباء نے دنیا کو ایک ایسے وقت میں جکڑا ہے جب وہ مختلف چیلنجز سے نمٹنے میں مشکلات سے دوچار ہے۔ وباء کے اثرات کے تحت عالمگیریت، قواعد کی بنیاد پر بین الاقوامی نظام اور multilateralism پر اب کہیں زیادہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ہم نے دیکھا ہے کہ اس بحران کے دوران موجودہ عالمی نظام کتنا غیر مؤثر ثابت ہوا ہے۔ اتنا زیادہ کہ اقوام متحدہ کے سب سے بنیادی فیصلہ ساز ادارے سلامتی کونسل کو وباء کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرنے میں کئی ہفتے، بلکہ مہینے، لگ گئے۔ یوں ہم نے ایک مرتبہ پھر ‘دنیا پانچ ملکوں سے کہیں بڑی ہے’ کا جواز دیکھا ہے، جس کی میں اس پلیٹ فارم سے سالہا سال سے بات کر رہا ہوں۔ انسانیت کے مستقبل کو محض چند ملکوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بین الاقوامی انجمنوں کی ساکھ کو بچانے کے لیے ہمیں اپنی ذہنیت، اداروں اور قواعد پر لازماً نظر ثانی کرنا ہوگی۔ ہمیں فوری، جامع اور سیر حاصل اصلاحات کرنا ہوں گی، جس کا آغاز سلامتی کونسل کے ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینے سے ہوگا۔ ہمیں کونسل کو زیادہ مؤثر، جمہوری، شفاف اور قابلِ احتساب ڈھانچے کا حامل بنانا ہوگا۔

شام میں کشیدگی، جو اب اپنے 10 ویں سال میں داخل ہو چکی ہے، ہمارے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے بدستور ایک خطرہ ہے۔ ہم نے خطے میں داعش کے خلاف سب سے پہلا اور سب سے کاری وار کیا، ہم PKK-YPG دہشت گرد تنظیم کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ بین الاقوامی برادری کی حیثيت سے ہم اصولی مؤقف اپنائے اور تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن طرزِ عمل اختیار کیے بغیر شام کے مسئلے کا مستقل حل تلاش نہیں کر سکتے۔ یہ شامی باشندوں کی محفوظ اور رضاکارانہ وطن واپسی کے لیے بھی ضروری ہے۔ 4 لاکھ سے زیادہ شامی بھائیوں اور بہنوں کی ان علاقوں میں واپسی، جو ہم نے شام میں دہشت گردوں سے آزاد کروائے ہیں، اس کی واضح علامت ہے۔

"وقت آ گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ مضبوط مؤقف اختیار کرے”

آج ترکی جیسے ملک دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں اور اپنی قربانیوں کے ذریعے تمام انسانیت کے وقار کو بچا رہے ہیں۔ لیکن کچھ ریاستیں، جن میں چند یورپی ممالک بھی شامل ہیں، بدقسمتی سے مہاجرین اور سیاسی پناہ کے خواہش مندوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ ان خلاف ورزیوں کے مقابلے میں مضبوط مؤقف اختیار کرے جو جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظام کی خلاف ورزیاں ہیں۔

ترکی دنیا کا واحد ملک ہے کہ جس نے لیبیا کی قانونی حکومت کی مدد کے مطالبے پر کان دھرا اور اس کو مدد فراہم ک۔ ہم لیبیا کا مستقل سیاسی حل چاہتے ہیں جو لیبیا میں سب کو ملا کر اور جامع مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

یہ بھی بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ یمن میں خون خرابے اور انسانی بحران کو روکے، جو پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی جنہوں نے یمن کے سیاسی اتحاد اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچایا ہے تاکہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکیں، اور ان کو بھی جو یمن کے باشندوں پر ہونے والے مظالم کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

یہ ہماری خواہش ہے کہ عراق بیرونی طاقتوں کی آماجگاہ نہ بنے اور خطے میں امن و استحکام پیدا کرے۔ ہم ہر شعبے میں اپنے پڑوسی عراق کی مدد کر رہے ہیں، خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ ہم PKK دہشت گرد تنظیم کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری اور عراق کے تعاون کے خواہش مند ہیں، جو عراق کو گڑھ بنا چکا ہے۔ علاقے کو دہشت گرد تنظیموں سے پاک کرنا عراق کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

ہم ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے مسائل کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں۔

"ترکی فلسطینی عوام کی رضامندی کے خلاف کسی بھی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا”

فلسطین پر مسلسل قبضہ اور مظالم عالمی ضمیر کو مستقل کچوکے لگا رہا ہے۔ فلسطین کے عوام اسرائيل کی ظالمانہ، تشدد اور دہشت پر مبنی پالیسیوں کے خلاف نصف صدی سے زیادہ عرصے سے کھڑے ہیں۔ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا جس پر فلسطین کے عوام رضامند نہیں ہوں گے۔ مسئلہ فلسطین ایک آزاد و خود مختار ریاست فلسطین کے قیام سے ہی حل ہو سکتا ہے جو 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ہو اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔ اس سے ہٹ کر کوئی بھی حل وقت کا ضیاع ہے، یک طرفہ ہے اور مبنی بر انصاف نہیں۔

جولائی میں آذربائیجان پر حملہ کرنے والے آرمینیا نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ وہ جنوبی قفقاز کے علاقے میں دیرپا امن اور استحکام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہم خطے کے مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے حق میں ہیں، خاص طور پر نگورنو قاراباخ کا معاملہ، جو آذربائیجان اور جارجیا کی علاقائی سالمیت اور اقوامِ متحدہ اور OSCE کی قرارداوں کو مدنظر رکھ کر حل ہونا چاہیے۔

مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی کلید ہے، اور اب بھی ایک سلگتا ہوا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد اٹھائے گئے اقدامات نے اس مسئلے کو مزید گمبھیر کر دیا ہے۔ ہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور خاص طور پر کشمیری عوام کی توقعات کے مطابق حل کرنے کے حق میں ہیں۔

"ہمارے ملک کو دیوار سے لگانے والے لاحاصل اقدامات کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں”

ہمارے ملک کو دیوار سے لگانے والے لاحاصل اقدامات کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔

ہم کسی کے حقوق اور قانونی مفادات پر نظریں نہیں رکھتے، نہ ہی مشرقی بحیرۂ روم میں اور نہ کسی دوسرے خطےمیں۔ لیکن ہم اپنے ملک اور ترک قبرص کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتے بھی نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ خطے میں آج کے مسائل کی وجہ یونان اور یونانی قبرص کے اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات ہیں جن کے مطالبات 2003ء سے بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ترکی وہ ملک ہے جو مشرقی بحیرۂ روم میں ہونے والی کسی بھی منفی پیش رفت کا بوجھ کاندھوں پر اٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ لیکن دوسری جانب جب خطے میں قدرتی وسائل کی بات آتی ہے تو بین الاقوامی قوانین کے خلاف اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہماری ترجیح ہے کہ معاملات سنجیدہ اور مخلصانہ مذآکرات کے ذریعے طے ہوں، جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور برابری کی بنیاد پر ہوں۔ لیکن میں واضح کرنا چاہوں گا کہ ہم کوئی بھی فیصلہ مسلط کرنے، ہراساں کرنے یا حملے کو برداشت نہیں کریں گے۔ میں ایک مرتبہ پھر مشرقی بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ممالک کے درمیان مذاکرات اور تعاون کا مطالبہ کرتا ہوں۔

"بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے تمام ہتھیار لازماً تلف ہونے چاہئيں”

ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم پھینکنے کے 75 سال بھی رواں برس مکمل ہوئے۔ عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایسے ہتھیاروں کا تلف کرنا بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس گزشتہ چند سالوں میں ہتھیاروں پر کنٹرول کے ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ عالمی برادری کو یکساں اور انصاف کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے تمام ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے لازماً آگے بڑھنا ہوگا۔

"نسل پرستی اور اسلاموفوبیا خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے”

اور اب میں آپ کی توجہ ایک ایسے مسئلے کی طرف دلانا چاہوں گا جو انسانیت کے لیے خطرے میں ڈال رہا ہے۔ نسل پرستی، غیر ملکیوں سے خوف (xenophobia)، اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز طرزِ عمل خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔

وباء کے حالات میں تو معاشرے کے نچلے طبقات، خاص طور پر مہاجرین اور سیاسی پناہ کے خواہشمندوں کے خلاف xenophobia اور نسل پرستی کہیں بڑھ گئي ہے۔ مسلمان تعصب اور جہالت پر مبنی رحجان کی زد پر ہیں۔ اس خطرناک طرزِ عمل کے بنیادی ذمہ دار سیاست دان ہیں جو ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایسے نعرے لگاتے ہیں۔ میں تمام بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس ذہنیت کے خلاف مضبوط اقدامات اٹھائے۔ میں 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دینے کا مطالبہ کرتا ہوں کہ جس دن نیوزی لینڈ میں ایک دہشت گرد سے مسلمانوں پر حملہ کیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے بعد دوسری سب سے بڑی عالمی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن پہلے ہی اس دن کو تسلیم کر چکی ہے۔

"ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ممالک بحران سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں”

وباء اور اس کی وجہ سے بڑھتے ہوئے اقتصادی بحران نے ترقی اور 2030ء کے اہداف پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

درحقیقت وباء کے دوران جو کچھ ہوا اس میں تمام اقسام کے عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے Sustainable Development Goals ایک اہم رہنما ہو سکتے ہیں۔ ہمیں بحران سے بچنے کے لیے معاشی تجاویز تیار کرنے میں ڈجیٹلائزیشن کی زبردست طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔ ہم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے روڈ میپ برائے ڈجیٹل کوآپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔

تبصرے
Loading...