ہماری پارلیمان مذاکرات کی میز پر نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں قائم ہوئی تھی، صدر ایردوان

0 1,837

‏15 جولائی یومِ جمہوریت و قومی اتحاد پر ترک قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے زور دیا ہے کہ 15 جولائی 2016ء کو ‏FETO کے دہشت گردوں نے بہت سوچ سمجھ کر پارلیمان کو نشانہ بنایا تھا، اور کہا کہ "یہ پارلیمان مذاکرات کی میز پر نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں قائم ہوئی تھی۔ یہ وہ پارلیمان ہے جس نے دشمن کے خلاف ہی نہیں بلکہ غداروں کے خلاف بھی کامیابی حاصل کی۔ یہ وہ پارلیمان ہے جس نے اس قوم کو امید کی کرن دکھائی اور اسے بہت مشکل دور میں اپنے قدموں پر دوبارہ کھڑا کیا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے 15 جولائی یومِ جمہوریت و قومی اتحاد پر ترکی کی قومی اسمبلی (GNAT) سے خطاب کیا۔

"ہماری پارلیمان نے صرف دشمن کے خلاف ہی نہیں بلکہ غداروں کے خلاف بھی کامیابی حاصل کی”

15 جولائی یومِ جمہوریت و قومی اتحاد پر ترک قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے زور دیا ہے کہ 15 جولائی 2016ء کو ‏FETO کے دہشت گردوں نے بہت سوچ سمجھ کر پارلیمان کو نشانہ بنایا تھا، اور کہا کہ "یہ پارلیمان مذاکرات کی میز پر نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں قائم ہوئی تھی۔ یہ وہ پارلیمان ہے جس نے دشمن کے خلاف ہی نہیں بلکہ غداروں کے خلاف بھی کامیابی حاصل کی۔ یہ وہ پارلیمان ہے جس نے اس قوم کو امید کی کرن دکھائی اور اسے بہت مشکل دور میں اپنے قدموں پر دوبارہ کھڑا کیا۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "مجھے دنیا کی کسی دوسری پارلیمان کا علم نہیں جو اس سے زیادہ ‘غازی’ کہلانے کا حق رکھتی ہے۔ نہ ہی مجھے کسی دوسری قوم کا پتہ ہے کہ جس نے اپنی پارلیمان کا اس طرح دفاع کیا – یہاں تک کہ ضرورت پڑنے پر اس کی حفاظت کے لیے اپنے جسم کا بطور ڈھال استعمال بھی کیا۔”

"15 جولائی ایک تاریخی ٹرننگ پوائنٹ تھا جس کے پیچھے بڑی سازش ہے”

15 جولائی ایک معمولی بغاوت نہیں تھی بلکہ یہ ایک تاریخی ٹرننگ پوائنٹ تھا کہ جس کے پیچھے بڑی سازشیں تھیں کہ جو کامیاب ہو جاتی تو ترکی اور ترک عوام کو بالکل مختلف سمیٹ میں گھسیٹ لیتی، صدر ایردوان نے کہا کہ "15 جولائی اس سرزمین پر صدیوں سے اپنی موجودگی کے دوران اپنی اندرونی جنگوں کے طویل سلسلے کی آخری کڑی ہے۔ یقینی بنائیں کہ جو بھی 15 جولائی کو گھٹانے، اہمیت نہ دینے، اعتبار نہ کرنے یا مذاق اڑانے کے لیے کام کرے، اس کا مقصد اس کے پس پردہ گہرے اور تاریخی مقاصد کو چھپانا اور ان کی حمایت کرنا ہے۔”

” ہم اپنے لیے اور اپنے دوستوں کے لیے بھی پوری استقامت اور بھرپور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں گے”

پارلیمان میں اختلافِ رائے کو ایک اثاثہ قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی کی عظیم قومی اسمبلی 83 ملین ترک شہریوں کے ساتھ ساتھ خطے اور دنیا بھر میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے لیے بھی امید کی ایک کرن ہے۔ ہم جو فیصلہ کرتے ہیں، جو لفظ اپنے منہ سے نکالتے ہیں اور جو مؤقف پر ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں وہ ایک بہت بڑے جغرافیہ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اپنی پارلیمان، صدارت، سفارت کاری، فوج اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ہم اپنے لیے اور اپنے دوستوں کے لیے بھی پوری استقامت اور بھرپور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔”

تبصرے
Loading...