بڑی رکاوٹیں اور مشکلات کا خاتمہ کرکے ہم نے دفاعی صنعت میں مقامی پیداوار کی شرح کو تقریباً 70 فیصد بڑھایا

0 587

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "دفاعی صنعت میں ہمارا دوسرے ممالک پر انحصار 17 سال قبل تقریباً 80 فیصد تھا۔ یعنی ہم اپنی دفاعی صنعت کی محض 20 فیصد ضروریات خود پوری کرنے کے قابل تھے۔ بڑی رکاوٹوں، مشکلات اور شر انگیزیوں کا خاتمہ کرکے ہم نے دفاعی صنعت میں مقامی پیداوار کی شرح کو 70 فیصد تک پہنچایا۔”

صدر رجب طیب ایردوان استنبول میں قائم نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

اپنی تعلیم مکمل کرنے والے 227 افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ سپاہ گری انسانیت کی تاریخ جتنا پرانا کام ہے۔

"ہم وہ قوم ہیں کہ جنہوں نے تاریخ کی طاقتور ترین افواج اور عظیم ترین ریاستوں میں سے ایک قائم کی”

"جنگیں اور ان سے ہونے والی تباہی، تکالیف اور نقصانات ایک حقیقت ہیں جس کا سامنا کوئی نہیں کرنا چاہتا لیکن اس ناگزیر حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ ہم نے بحیثیتِ قوم تاریخ کی طاقتور ترین افواج اور عظیم ترین ریاستوں میں سے ایک قائم کی۔ اس لیے ہم اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ جنگ کے لی تیار رہنے کی اہمیت سے آگاہ رہے ہیں۔ اس ضمن میں غازی مصطفیٰ کمال پاشا اتاترک کا یہ قوم کہ "گھر پر امن، دنیا میں امن” بہت اہمیت کا حامل ہے۔”

ڈیٹرنس کے ذریعے دنیا میں امن کو یقینی بنانے کے طریقے پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اس طاقت کا سب سے اہم عنصر ایک بہترین تربیت یافتہ، مسلح، نظم و ضبط کی پابند اور بہادر افواج ہیں جو بہت متحرک بھی ہو۔”

ترکی کی جانب سے اپنی دفاعی صنعت کو ترقی دینے کی کوششوں پر قدغن لگانے کی کوششوں پر انتباہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے ملک کی دفاعی صنعت پر خفیہ یا علانیہ پابندیاں لگانے والے ایک دن سمجھیں گے کہ درحقیقت معاملہ بہادری، جدوجہد اور استقامت کا ہے۔ اس کے باوجود ہم ایک دن ایسے مقام پر پہنچیں گے کہ ہمیں کسی کی ضرورت نہیں رہے گی اور تب وہ کیا کہتے ہیں یا کرتے ہیں اس کی کوئی اہمیت بھی نہیں رہے گی۔”

"ترکی نیٹو کی اہمیت اور استحکام میں حصہ ڈالتا ہے”

ترکی تمام دو طرفہ اور کثیر طرفہ عسکری معاہدوں میں اپنی کامیابیوں اور عہد سے وابستگی کی وجہ سے امتیازی حیثیت رکھتا ہے اور سراہا جاتا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ اس کا سب سے اعلیٰ اظہار انقرہ کی جانب سے نیٹو کے تحت کام سے ہوتا ہے۔

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ترکی نے نیٹو میں شمولیت کے بعد سے اب تک اپنی تمام ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم اقوام متحدہ اور نیٹو کے ساتھ ساتھ دیگر تنظیموں کی تمام ذمہ داریوں کو بھی پورا کرنا جاری رکھیں گے۔ ترکی نیٹو کی اہمیت اور استحکام میں اپنا حصہ بھی ڈالتا ہے، اور اس کے وژن اور مقاصد کو بھی توسیع دیتا ہے، ان تمام تنظیموں کی طرح کہ جس کا وہ حصہ ہے۔ اس لیے جب تک ہم ان کے ساتھ ذہن یکسوئی پائیں گے، اپنے وعدوں کو پورا کرتے رہیں گے۔”

"دفاعی صنعت میں جن پابندیوں کا ہمیں سامنا ہے، وہ بڑھتی جا رہی ہیں کیونکہ ہم ملک اور اپنے دوستوں کے حق کا مضبوطی سے دفاع کر رہے ہیں،” صدر ایردوان نے زور دیا "دفاعی صنعت میں ہمارا دوسرے ممالک پر انحصار 17 سال قبل تقریباً 80 فیصد تھا۔ یعنی ہم اپنی دفاعی صنعت کی محض 20 فیصد ضروریات خود پوری کرنے کے قابل تھے۔ بڑی رکاوٹوں، مشکلات اور شر انگیزیوں کا خاتمہ کرکے ہم نے دفاعی صنعت میں مقامی پیداوار کی شرح کو 70 فیصد تک پہنچایا۔”

تبصرے
Loading...