جب تک ہم اپنی ٹیکنالوجی نہیں بناتے تب تک ہم حقیقی طور پر آزاد نہیں ہو سکتے، ایردوان

0 5,599

طوبیتک کی تقریب تقسیم اعزازت سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "اگر ہم اپنی ٹیکنالوجی نہیں بنا سکتے، اگر ہم اپنی پروڈکٹس تیار نہیں کر سکتے تو ہم حقیقی طور پر آزاد نہیں ہو سکتے۔ سیاسی آزادی صرف کاغذوں سے چمٹ کر رہ جاتی ہے اگر ہم اسے معاشی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے مدد نہ پہنچائیں۔ آج اگر ترکی اپنی آزادی پر ذرا بھر بھی مصالحت پر تیار نہیں تو شکر کریں کہ ہم نے معاشی سے پیداواری شعبوں تک اور ٹیکنالوجی سے دفاعی انڈسٹری تک مضبوط کام کیا ہے”۔

ترک صدر نے ترکی کی سائنسی اور ٹیکنالوجی کونسل (طوبیتک) کی 2017ء کی تقریب اعزازات میں شرکت کی اور شرکاء سے مخاطب ہوئے۔

کامیابی کی کلید یہ ہے کہ ہم اپنے اعتماد کو حاصل کریں اور ہر شخص کی صلاحیتیں پہچانیں

ایردوان نے کہا: "صرف ایک چیز جو ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اعتماد کو حاصل کریں جو ہماری تاریخ اور ہمارے آباء و اجداد سے ہم تک پہنچا ہے۔ اور ضروری نہیں ہم اس پر عمل کریں یا ان کی نقل کریں بلکہ لازم ہے ان زمینوں کے افراط کے لیے جو کچھ انہوں نے کیا، ہم ان کی طرح ہر ممکن کوشش کریں۔ جس چیز کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ رقم، تیل، جواہرات یا اسلحہ نہیں۔ بلکہ سب سے زیادہ ہمیں اس یقین کی ضرورت ہے کہ ہم جیت سکتے ہیں اور اس ذہنیت کو اپنے طالب علموں تک منتقل کرنا ہے۔ ہم دیکھ چکت ہیں کہ وہ جو تیل سے مالا مال ہیں، جو کے مال و متاع ہے، یقین کیجئے ہم ان سے بہت آگے ہیں۔ رقم اور تیل کوئی مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر مسئلہ قدس کو دیکھئے، کیا ڈالر نے کوئی حل نکالا؟ کیا ڈالر سے دنیا خریدی جا سکی؟ وہ نہیں خرید سکتے۔ انہوں نے کئی ایسی دھمکیاں جاری کیں۔ انہوں نے ایک ایک کو کال کی۔ انہوں نے پوری دنیا سے رابطہ کیا۔ لیکن آخر پر 128 ممالک سے ایک سپر پاور کو یہ کہہ کر الٹ دیا ‘آپ ہماری رائے کو ڈالر سے نہیں خرید سکتے’، سچائی کو ہی زندہ رہنا ہے”۔

ترکی وہ ملک بن چکا ہے جس کا 15 سال قبل سے نہیں کیا جا سکتا

ترکی وہ ملک بن چکا ہے جس کا 15 سال قبل سے نہیں کیا جا سکتا، ایک ایسا ملک جس نے نئے آئیڈیاز اور تجربات کئے ہیں، ایک ملک جو کامیابی کو سراہتا اور اعزاز دیتا ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ سائنس، سائنسدانوں اور تحقیقات و ترقی نے ہی ترکی کو یہاں تک پہنچایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیقاتی و ترقیاتی مراکز کی تعداد 16 سے 762 ہو چکی ہے جبکہ ڈیزائن سنٹرز جئ تعداد 7 سے 138 ہو چکی ہے۔ سائنسی تحقیقات اور ترقی میں 2010ء میں 10000 لوگ کام کرتے تھے اور آج یہ تعداد 450000 تک پہنچ چکی ہے۔ صدر ایردوان نے مزید کہا کہ اب 69 ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ مراکز موجود ہیں جن میں 55 نے تحقیقاتی کام ہو رہا ہے جبکہ 14 زیر تعمیر ہیں۔ 2002ء میں ان کی تعداد صرف 5 تھی۔

تبصرے
Loading...