استنبول میں مسعود اوزِل کی شادی، ایردوان کی بطورِ گواہ شرکت

0 1,441

سابق جرمن انٹرنیشنل فٹ بالر مسعود اوزِل کی شادی جمعے کو استنبول میں ہوئی کہ جس کی تقریب میں صدر رجب طیب ایردوان بطورِ گواہ شریک ہوئے۔

30 سالہ ترک نژاد اوزِل کی گزشتہ سال صدرایردوان کے تصویر نے تنازع کھڑا کردیا تھا، جس پر 2018ء ورلڈ کپ کی ناکام مہم سے قبل اُن کی جرمنی کے ساتھ وفاداری پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

ترک رہنما باسفورس کنارے واقع ایک لگژری ہوٹل میں ہونے والی تقریب میں تشریف لائے جہاں آرسینل سے کھیلنے والے فٹ بالر کا نکاح سابق مس ترکی آمنہ گلشہ کے ساتھ ہوا۔

اس موقع پر ایردوان اور ان کی اہلیہ امینہ کو نوبیاہتا جوڑے کے ساتھ مسکراتے ہوئے دیکھا گیا۔

تقریب آبنائے باسفورس کے کنارے واقع 19 ویں صدی کے عثمانی محل میں قائم فور سیزنز ہوٹل میں ہوئی جو ترکی کے سب سے بڑے شہر کو ایشیائی اور یورپی حصوں کو جدا کرنے والے پانیوں پر واقع چبوتروں کی وجہ سے مشہور ہے۔

شادی سے قبل اوزِل نے تحفے دینے کے خواہشمند پرستاروں کو غریب بچوں کے لیے کام کرنے والے ایک خیراتی ادارے کو عطیات دینے کا مطالبہ کیا۔ جوڑے نے ترک ہلالِ احمر کو بھی بڑا عطیہ دیا کہ جو جنگ سے متاثرہ افراد اور مہاجرین پر خرچ ہوگا۔ امدادی تنظیم نے ترکی بھر میں 15 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرنے کے لیے عطیے کا استعمال کیا، جن میں شامی مہاجرین اور شمالی شام کے بایربوجاک ترکمن شامل تھے۔

جرمنی کے لیے 92 میچز کھیلنے کے بعد، جن میں 2014ء کی ورلڈ کپ فتح میں کلیدی کردار بھی شامل تھا، اوزِل نے 2018ء ورلڈ کپ سے قبل اور بعد میں جرمن ٹیم کی بدترین ناکامی کے بعد ہونے والے غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی اور نسل پرستانہ حملوں کے بعد گزشتہ جولائی میں قومی ٹیم کو الوداع کہہ دیا تھا۔

مارچ میں اوزِل نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے صدر ایردوان کو نکاح میں بطورِ گواہ شرکت کرنے کی دعوت دی ہے۔

جرمن چانسلر اینجلا مرکیل کے چیف آف اسٹال ہلگے براؤن بھی اس دعوت نامے پر تنقید کرنے والوں میں شامل تھے۔

براؤن نے بائلڈ اخبار کو بتایا کہ یہ خبر افسوس ناک ہے کہ اوزِل ایردوان کے ساتھ پہلی ملاقات کے بعد جرمن عوام کی جانب سے اتنی سخت تنقید کے باوجود کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے۔

اوزِل 2017ء سے گلشہ کے دوست تھے اور دونوں نے جون 2018ء میں منگنی کا اعلان کیا۔

فٹ بالر، جو جرمنی میں پلنے والی تیسری نسل ہیں، کی گزشتہ سال مئی میں ایردوان کے ساتھ تصویر آنے پر ایک سیاسی ہنگامہ کھڑا کردیا تھا اور اس کے بعد زبردست نسل پرستی کا سامنا بھی کیا۔

تنقید میں اس وقت زبردست اضافہ ہوا جب دفاعی چیمپئن روس میں ہونے والے ورلڈ کپ کے پہلے ہی مرحلے میں باہر ہو گیا۔

ورلڈ کپ میں شکست کے بعد اوزِل نے یہ کہتے ہوئے قومی اسکواڈ سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ "جب ہم جیتتے ہیں تو میں جرمن ہوتا ہوں، لیکن جب ہارتا ہوں تو تارکِ وطن کہلاتا ہوں۔”

تبصرے
Loading...