FETÖ اسکولوں کی ترکی حوالگی کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد

0 1,063

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے گولن دہشت گرد گروپ (FETÖ) سے منسلک اسکولوں کی ترکی کی معارف فاؤنڈیشن حوالگی کے خلاف نظرثانی درخواست مسترد کردی۔ یہ اپیل عدالت عظمیٰ کے 2018ء میں کیے گئے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

یہ نظرثانی درخواست گزشتہ ماہ FETÖ گروپ نے داخل کی تھی، جس کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس مقبول باقرپر مشتمل بینچ نے کی۔ ترکی میں 2016ء میں ہونے والی ناکام بغاوت کے پیچھے اسی گروپ کا ہاتھ تھا۔

2018ء میں FETÖ اسکولوں کے خلاف پٹیشن داخل کرنے والے مقامی وکیل محمد سہیل ساجد نے انادولو ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "آج عدالت عظمیٰ نے FETÖ کی نظرثانی درخواست مسترد کردی ہے جو گزشتہ سال کیے گئے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں پیش کی گئی تھی۔

عدالت نے بتایا کہ اسکول سسٹم ترکی کا ہے اور ریاستِ پاکستان FETÖ سے تعلق رکھنے والے پاک-ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PTICEF) کے تمام اجازت نامے اور مفاہمت کی یادداشتیں پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا کہ FETÖ ترک پارلیمنٹ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم ہے اور اس کی توثیق اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) اور ایشین پارلیمنٹ اسمبلی (APA) بھی کر چکے ہیں۔ اس لیے عدالت تکنیکی و انتظامی بنیادوں پر بھی کسی کو دہشت گردوں کا دفاع نہیں کرنے دے گی۔

سہیل ساجد نے کہا کہ "اس سے، FETÖ کی جانب سے اپنا وکیل تبدیلی کرنے کی درخواست بھی مسترد کردی گئی تھی۔ اسکول سسٹم کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے FETÖ کی مزاحمت کا باب اب ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔” وہ نظرثانی پٹیشن میں نئے وکیل کو نمائندہ بنانے کے لیے فروری میں FETÖ کی جانب سے گئی درخواست کا حوالہ دے رہے تھے۔

دسمبر میں عدالت عظمیٰ نے حکم دیتے ہوئے وزارت داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ PTICEF کو "کالعدم تنظیم” قرار دے اور اس کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرے۔ اس نے مالیاتی اداروں کو بھی کہا کہ FETÖ سے وابستہ اداروں کے بینک کھاتے فوراً منجمد کریں اور تحویل میں لیے گئے اثاثے ترکیہ معارف فاؤنڈیشن کے حوالے کریں۔ FETÖ سے منسلک تمام 28 اسکول پاکستانی حکام کی جانب سے معارف فاؤنڈیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔

FETÖ بیرونِ ملک ، بالخصوص امریکا میں، بڑی نمائندگی رکھتی ہے، جس میں اُن کے نجی اسکول بھی شامل ہیں جو دہشت گرد گروپ کی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔

ترکی نے 2016ء میں معارف فاؤنڈیشن قائم کی تھی تاکہ بیرون ملک واقع FETÖ کے اسکولوں کا انتظام سنبھالے۔ یہ ادارہ بیرونِ ملک اسکول اور تعلیمی مراکز بھی قائم کرتا ہے۔

FETÖ اور اُس کے امریکا میں مقیم رہنما فتح اللہ گولن نے ترکی میں 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت ترتیب دی تھی کہ جس میں 251 افراد مارے گئے اور تقریباً 2200 زخمی ہوئے۔

انقرہ نے FETÖ کو طویل عرصے سے ریاست کا تختہ الٹنے کی کوشش کی پسِ پردہ قوت قرار دیا جو ترک اداروں بالخصوص فوج، پولیس اور عدلیہ میں اثر و رسوخ پا کر اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانا چاہتی تھی۔

تبصرے
Loading...