پاکستان اور ایردوان

0 3,392

علی شاہین، ترکی میں سب سے بڑے پاکستانی ہیں، انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے عالمی تعلقات میں بیچلر اور ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ترک پارلیمنٹ کے واحد رکن ہیں جنہیں اردو زبان پر بھی عبور حاصل ہے۔ پاک ترک دوستی پارلیمانی گروپ کے چئیرمین کے علاوہ نائب وزیر برائے یورپی یونین معاملات بھی ہیں۔
——————————————————————————————————————————–

سالہا قبل پہلی بار میں 1990ء کی ماہ فروری میں بطور ایک طالب علم پاکستان گیا، اس بار دوبارہ فروری کے مہینے میں ترکی۔پاکستان پارلیمانی دوست گروپ کے چئیرمین اور پارلیمنٹرین کے طور پر اپنے صدر جمہوریہ رجب طیب ایردوان کے ہمراہ جانا میرے لیے اہمیت کا حامل تھا۔

سفر کا سب سے اسپیشل سرپرائز دریلش پوسٹ اخبار سے ہمارے ایڈیٹر جنرل اور منتظم جناب ایریم شین ترک اور عزیز کالم نگار بتول سوئسال بوزدوآن خانم بھی پاکستان کی جانب رواں ہمارے سفر کا حصہ تھیں۔

جب جہاز نے انقرہ سے اڑ کر مشرق کی راہ لی، میری آنکھوں کے سامنے سکرین پر موجود طائرانہ نقشہ مجھے سالوں پہلے پاکستان اور ترکی کے درمیان کٹھن سفر کی یاد دلانے لگا۔

ہمارا جہاز جوں جوں پاکستان کے راستے پر لے جا رہا تھا، میرا حافظہ اور میری روح مجھے ماضی میں اپنے دور طالب علمی کی یادوں میں ڈبوتی جا رہی تھیں۔

اب تو ترکی اور پاکستان کے درمیان سفر، روشنی کی تیزی کی طرح پانچ گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے، میں 90ء کی دہائی میں پہاڑوں، مرتفع، صحرا اور وادیوں پر سفر کرتا، ایک شہر سے دوسرے شہر گاڑیاں بدلتے ہوئے پورے 7 دن میں سفر کرنا جان چکا ہوں۔

آج میں اپنے اس بارے میں خیالوں میں کھو گیا، دیکھتا ہوں کہ بدلتے دن اور راتوں میں، وہ وادیوں، صحراؤں اور پہاڑیوں پر کی گئی مشقت، میری روح اور آج کے علی شاہین کو پروان چڑھانے والی ایک سرگرمی تھی۔۔۔ زندگی میں کوئی بھی چیز ایسی صلاحیت نہیں رکھتی، جیسی انسانی مشقت، ہمیں پختہ بناتی اور پروان چڑھاتی ہے۔

ان غیر معمولی سوالات و احساسات میں ہی ہم اپنی جوانی کے ایام کے معمار، پاکستان میں اترے۔

ہمارے جہاز کے اترنے کی جگہ مطلب نور خان عسکری ائیربیس، اسلام آباد سے جائے قیام سیرینا ہوٹل تک، سارے راستے ترکی اور پاکستان کے جھنڈوں کے ساتھ ساتھ ہمارے صدر جمہوریہ رجب طیب ایردوان کی تصاویر اور "دو ریاستیں، ایک ملت” کے سلوگن کے ساتھ سجائے گئے تھے۔

راستے کے کناروں پر امڈے ہمارے پاکستانی بھائی "امت کا رہنما” کے نعرے لگاتے ہوئے انہیں دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ترکی پاکستان تعلقات کے طویل سفر میں ہونے والا یہ حالیہ دورہ، میں ہردو ممالک کے لحاظ سے گذشتہ تمام دوروں سے سب سے زیادہ کامیاب دورہ سمجھتا ہوں۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی چھٹی ہونے کے باوجود پارلیمان میں موجود تمام پارٹیوں کے ممبران اسمبلی نے اپنے اپنے شہروں سے آ کر ہمارے صدر رجب طیب ایردوآن کا پارلیمنٹ آف پاکستان سے کیا گیا شاندار خطاب، وقفہ وقفہ سے اپنی تالیوں کی گونج سے روکتے ہوئے سنا۔

اپنے پاکستانی بھائیوں کی کشمیر سے متعلق توقعات پر ہمارے صدر رجب طیب ایردوآن نے یہ کہتے ہوئے پاکستانی عوام کا دل جیت لیا، "کل چناق قلعہ تھا تو آج کشمیر ہے، ہمارے لیے جو چناق قلعے ہے، کشمیر بھی وہی ہے۔ اس وقت جس طرح پاکستان نے ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا تھا، آج ہم بھی اپنے پاکستانی بھائیوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے”۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے صدر جمہوریہ ایردوان کے ان شاندار جملوں کا جواب ان اشاروں سے دیا، "اگر آج انتخابات ہوں، جناب ایردوان، اس خطاب کے بعد پاکستان میں انتخابات گارنٹی کے ساتھ جیت سکتے ہیں”۔

پاکستان کے صدر عارف علوی کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز جمعہ میں امام ، جن کے ایک عالم دین ہونے میں کوئی شک نہیں صدر جمہوریہ ایردوآن کو، "آپ امت کے رہنما ہیں، آئیں نماز جمعہ کی امامت آپ کروائیں” کی صورت میں کی گئی پیشکش، پاکستانی مسلمانوں کے لیے ایردوان کے مقام و مرتبہ کے ایک زاویہِ اظہار کے طور پر بہت معنی خیز ہے۔

اس دورے کے اختتام پر، جس میں بہت سارے تاجر بھی شامل تھے، ڈرامہ اور فلمی صنعت سے ٹی آر ٹی، پی ٹی وی کے تجربات کی منتقلی، اجتماعی رہائش گاہوں کے تجربے کی منتقلی سے لے کر ، لابنگ اور ڈایاسپورا میں تعاون، معاشی میدان، ثقافت اور سیاحت سمیت 13 مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوئے۔

وزیراعظم عمران خان نے، پاکستان کو آسان تجارت اور سرمایہ کاری والا ایک ملک بنانے کے سلسلے میں اپنی ہر تقریر کے اندر ترکی کی اصلاحات کے ساتھ سوچ و بچار اور اپنے پاؤں پر کھڑے موجودہ ترکی کے ایردوان ماڈل کو اپنانے کا ارادہ ظاہر کیا-

پاکستان، ترکی کے زوایے سے، ترکی بھی پاکستان کے زاویے سے انتہائی اہم دو ممالک اور ایک قوم ہیں- ہماری جنگ آزادی کے ادوار میں مالی امداد، ترکی بھجوانے کے لیے اپنی اولادیں کو بھی بیچنے کے لیے حاضرماؤ‍ں اور علامہ اقبال کے ملک پاکستان کو کسی بھی موقع پر اور کسی بھی حوالے سے کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے-

پاکستان، جیسا کہ سنا جاتا ہے کہ ہمارا دوسرا گھر ہے، اس کے برعکس یہ ہمارا اپنا گھر ہے اور اپنے گھر سے جڑے رہنا ہمارے لیے ضروری ہے۔

تبصرے
Loading...