کیا مسئلہ کشمیر سے پاکستان باہر ہو چکا ہے؟

0 3,953

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی راجیہ سبھا نے جو بل منظور کیا ہے اس نے نہ صرف مسئلہ کشمیر پر بھارت کا حتمی فیصلہ سنایا ہے بلکہ بھارت کے ساتھ اس کے مکمل تعلق بھی تشکیل دے دیا ہے۔ اس بل کے بعد مقبوضہ کشمیر کو عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ لداغ کا حصہ اور جموں کا حصہ۔ اس میں جموں کشمیر کو ایک مقامی اسمبلی بھی دی گئی ہے اور بھارت کی باقی اکائیوں کی طرح ایک اکائی قرار دے کر محدود اختیارات بھی دئیے گئے ہیں۔

بھارت کے اس آئینی قدم سے کشمیر کی حیثیت ایک سو اسی درجے پر بدل چکی ہے۔ اس کی متنازعہ حیثیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اس منظرنامہ میں کیا کرنا چاہتا ہے؟ اور صرف چاہنے کی بات ہی نہیں کیا کر سکتا ہے کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ بھارت کے اس آئنی اقدام کی اسرائیل کی طرف سے بیت المقدس کو دارالحکومت قرار دینے کے فیصلے میں سفارتی سطح پر ایک مماثلت موجود ہے۔ لیکن اس فیصلہ کو اقوام عالم کی تائید حاصل نہیں ہو سکی کیونکہ اسلامی اور دوست ممالک نے مل کر اقوام متحدہ میں اسرائیل کے اس فیصلے کو بھاری اکثریت کے ساتھ مسترد کر دیا تھا۔ اس میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کی کوششوں کو نہیں بھلایا جا سکتا ہے۔ اقوام عالم کی جانب سے مسترد ہونے کے بعد مسئلہ فلسطین کی متنازعہ حیثیت آج بھی برقرار ہے۔

اگرچہ چین کی جانب سے بھارت کے اس اقدام کو مسترد کر دیا گیا ہے لیکن کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر اقوام عالم کے سامنے پیش کرے اور بھارت کے اس آئینی قدم کے خلاف اقوام متحدہ میں ایک بل پیش کر کے مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے؟۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان اس پوزیشن میں نہیں نظر آتا کہ کوئی بڑا قدم اٹھا سکے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں "میں بھارت پر حملہ کردوں کیا؟” کہتے ہوئے کسی بڑے قدم سے اجتناب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان سفارتی اور فوجی سطح پر فیصلہ کن اقدام کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ معیشت کی کمزور حالت، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے معاشی پابندیوں کی لٹکتی تلوار اور امریکہ کی جانب سے افغان مسئلہ کے حل پر غیر مقسم توجہ کے اصرار نے پاکستان کو جکڑ رکھا ہے۔

بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ پاکستان کے مصنوعی ردعمل کے بعد بھارت کے اس آئینی قدم کو خاموش قبولیت مل جائے گی اور پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے ساتھ محض اخلاقی تعلق ہی رہ جائے گا۔ اس کے بعد کشمیر کا مستقبل خود کشمیریوں تک محدود ہو جائے گا۔ ان کا ردعمل اور مزاحمت اس فیصلے پر جس قدر جامع اور دنیا کی توجہ کے قابل ہو گی، مسئلہ کشمیر تازہ رہے گا۔ اور اگر کشمیریوں نے بھارتی جبر اور تشدد کے بعد اس پر خاموشی اختیار کر لی تو یہ معاملہ مکمل طور پر دب جائے گا۔ اور ہو سکتا ہے آنے والے سالوں میں پاکستان، بھارت کے اقدامات کی نقل کرتے ہوئے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنا کر صوبائی اسمبلی قائم کر دے۔ لیکن مسئلہ کشمیر کا ایسا انجام پاکستان کے جیو اسٹریٹجک اور خود کشمیریوں کے سیاسی مفادات کا قتل ہو گا۔

تبصرے
Loading...