پاکستان کا طیارہ حادثے کی تحقیقات میں ترکش ایئرلائنز سے مدد کا مطالبہ

0 307

پاکستان نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے گزشتہ ماہ کراچی میں ہونے والے طیارہ حادثے کی جاری تحقیقات میں ترکی کی قومی پرچم بردار ایئرلائن سے تکنیکی مدد طلب کی ہے۔

وزیرِ ہوا بازی غلام سرور خان نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ ترکش ایئرلائنز کے ایک "سینئر پائلٹ” جلد ہی تحقیقات میں شامل ہوں گے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ حادثہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوا یا پائلٹ کی جانب سے کوئی غلطی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے جاری تحقیقات میں مدد کے لیے ترکش ایئرلائنز سے ایک سینئر پائلٹ کی خدمات دینے کی درخواست کی ہے۔ وہ جلد ہی تحقیقات کا حصہ ہوں گے۔”

22 مئی کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا ایک ایئربس طیارہ لاہور سے پرواز کرنے کے بعد کراچی میں اپنی منزل پر پہنچنے والا تھا کہ قائد اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک رہائشی علاقے پر گر گیا۔ گرنے سے پہلے جہاز کے پائلٹوں نے کنٹرول ٹاور کو آگاہ کیا تھا کہ طیارے کے دونوں انجن بند ہو گئے ہیں۔

اس طیارے میں 99 مسافر اور عملے کے اراکین سوار تھے۔ 97 مسافر اور نیچے آبادی میں مقیم ایک بچی جاں بحق ہوئی جبکہ دو افراد معجزانہ طور پر بچ گئے۔ مسافروں میں 20 خواتین اور تین بچے، آرمی کے چند افسران اور ایک سینئر صحافی انصار نقوی بھی شامل تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی۔

طیارہ بنانے والے یورپی ادارے ایئربس نے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ایئربس کے ماہرین اور انجینئرز پر مشتمل ایک 11 رکنی ٹیم نے پچھلے مہینے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ جہاز کا وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا باکس فرانس میں ڈی کوڈ کیا جا رہا ہے۔

غلام سرور خان نے کہا کہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ 22 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔

تبصرے
Loading...