میزائل معاملہ پر پاکستان کا ہندوستان پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ

0 2,650

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے انتہائی اہم پریس بریفنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے  ہوئے بھارت سے بظاہر ’سپر سانک میزائل‘ فائر ہونے سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اڑتے دیکھا گیا جو اچانک پاکستانی حدود میں داخل ہوگیا اور میاں چنوں کے قریب تقریباً 6 بج کر 50 منٹ پر گر کر تباہ ہوگیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب وہ گرا تو شہری املاک کو نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، پاکستان ایئر فورس اس چیز کو بھارت سے اڑنے سے لے کر میاں چنوں میں گرنے تک مکمل طور پر مانیٹر کرتا رہا۔

پاکستان نے اس میزائل کو ہندوستانی حدود کے اندر سے ٹریک کرتے ہوئے اس کی لانچنگ پوزیشن کا بتا کر اپنی ٹریکنگ صلاحیت منوائی ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئر فورس نے ایس او پیز کے مطابق کارروائی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس چیز نے مقامی اور غیرملکی پروازوں کو ناصرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی خطرے میں ڈالا، اس سے کوئی بڑا فضائی حادثہ بھی پیش آسکتا تھا، جب یہ اڑا تو پاکستانی حدود میں کئی پروازیں فضاء میں موجود تھیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان اس کھلم کھلا بھارتی خلاف ورزی پر احتجاج کرتا ہے اور مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کی صورت میں خبردار کرتا ہے، اشتعال انگیزی نہیں چاہتے تاہم اس پر وضاحت پیش کی جائے۔

بہت سارے حلقے اس میزائل کو براہموس قرار دے رہے ہیں تاہم پاکستان نے اس کو وضاحت ہندوستان پر چھوڑ دی ہے۔

اگر ہندوستان اس کی وضاحت میں اس میزائل کو قبول کرتے ہوئے اسے ٹیکنکل خرابی قرار دیتا ہے تو ہندوستان کی میزائل ٹیکنالوجی پر بہت بڑا سوال کھڑا ہو جائے گا بلکہ پاکستان اسے عالمی سطح پر اٹھا سکتا ہے۔ براہموس نہ صرف عام وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ ایٹمی ہتھیار بھی لانچ کر سکتا ہے۔ ٹیکنکل خرابی کی توجیہہ ہندوستان کی دفاعی صلاحیتوں کو آشکار کر دے گی۔

تاہم اگر ہندوستان اس میزائل کو قبول نہیں کرتا تو پاکستان کے پاس اس میزائل کا ملبہ موجود ہے جسے وہ عالمی سطح پر پیش کر کے ہندوستان کو جھوٹا ثابت کر سکتا ہے۔ جس کے بعد وہ مزید دباؤ میں چلا جائے گا۔ یہ حکمت عملی پاکستان اس سے قبل ہندوستان کے خلاف 2019ء کے جیٹ حملوں میں بھی استعمال کر چکا ہے۔

اس موقع پر میجر جنرل بابر افتخار کے ہمراہ موجود ایئر وائس مارشل طارق ضیا نے کہا کہ ہم اس وقت صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ چیز ممکنہ طور پر ایک سُپر سانک میزائل تھا، یہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا میزائل تھا مگر اس پر کوئی ہتھیار نصب نہیں تھا، اس پر تحقیقات چل رہی ہیں، فارنزک بھی کرایا جارہا ہے۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان نے ایک دن بعد سوچے سمجھے پلان کے بعد پریس کانفرنس کی ہے اور اس پریس کانفرنس میں بہت سی چیزیں دانستہ واضع نہیں کی گئی ہیں۔ کیونکہ اس کا مقصد اس پر ہندوستان پر دباؤ بڑھانا ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: