پاکستان، اسرائیل تعلقات: ترکی سے کیا سیکھا جائے – ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

0 2,929

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش، پاکستان کے ایک معروف تھنک ٹینک ہیں، عالمی سیاست بارے ان کے  تجزیات اور آراء مستند سمجھی جاتی ہیں- وہ پاکستانی اخبار روزنامہ 92 میں کالم بھی لکھتے ہیں-


جملہ "نہایت معترضہ” ۔۔۔

یہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر کافی عام (وائرل) ہو چکا ہے ۔ آپ ایک بار پھر اسے دیکھیے اور مندرجہ ذیل پر غور کیجیے :


1۔ ابھی چند ہفتے قبل پاکستان میں تعینات فلسطینی سفیر نے حافظ سعید صاحب کے ساتھ فلسطین کے حوالہ سے منعقد ایک تقریب میں شرکت کی جس پر بھارت نے شدید خفگی کا اظہار کیا۔

صدر محمود عباس کی زیرِ قیادت کام کر رہی "فلسطینی اتھارٹی” نے بھارت کی خوشنودی کی خاطر کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر اپنے سفیر کو معطل کر کے اسلام آباد سے واپس بلوا لیا۔

پوسٹ کے ساتھ اٹیچ ویڈیو میں بھارت کے خاص الخاص دوست اور کرم فرما اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیت یاہو سے بھارتی صحافی نے ایسا سوال کیا جس کے جواب میں وہ نیتن یاہو سے بھارت کی بھرپور حمایت کی امید کر رہا تھا، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نے صحافی کی فرمائش سے واضح طور پر صرفِ نظر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیل کی بھارت سے دوستی کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔ نیز ۔۔۔ اسی حوالہ سے ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پاکستان کو دشمن نہیں سمجھتا ، پاکستان
کو بھی چاہیے کہ اسرائیل کو دشمن نہ تصور کرے۔

فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی وزیر اعظم کے مندرجہ بالا رویہ کو اس تناظر میں ضرور دیکھنا چاہیے کہ پاکستان نے جنرل اسلمبلی کی اس قرارداد میں کلیدی کردار ادا کیا جس میں امریکی سفارتخانہ کی یروشلم منتقلی کی مذمت کی گئی تھی اور اس سے امریکہ کس قدر برہم ہؤا تھا، خاص طور سے پاکستان پر.

2۔ اسرائیل سے تعلقات ہمارے ہاں شجر ممنوعہ کا درجہ رکھتے ہیں لیکن ہمیں ترکی، بالخصوص رجب طیب ایردوان صاحب کی مثال سے دو باتیں سمجھ لینا چاہئیں ۔۔۔۔

الف۔ اسرائیل سے بھرپور سفارتی و تجارتی تعلقات رکھ کر بھی "صلاح الدین ایوبی” بنا جا سکتا ہے ۔ اس کا تعلق پالیسی کی مضبوطی سے ہے ،اسرائیل سے نہیں۔

ب۔ سفارتی تعلقات کی موجودگی میں اسرائیل سے زیادہ بہتر ڈیل کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے "فریڈم فلوٹیلا” کے واقعہ کے بعد ترکی اور اسرائیل کے مابین تعلقات ، اسرائیل کی معذرت، زر تلافی اور غزہ کے لیے امداد کی بحالی سے دیکھا جا سکتا ہے ۔

3۔ اسرئیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام پر اس لیے بھی غور کرنا مناسب ہو گا کیونکہ اس وقت یہ سفارتی محاذ پر پاکستان کے لیے ایک ماسٹر اسٹروک ہو سکتا ہے ۔ اس کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں :

الف۔ پاکستان کے امریکہ سے بگڑتے ہوئے تعلقات کو اس سے بہت سہارا ملے گا، سب جانتے ہیں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کا حقیقی اور گہرا عمل دخل ہے۔

اسرائیل سے بہتر تعلقات امریکہ کی جارحانہ حکمت عملی کو پسپا کرنے میں کافی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ گویا صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف رویہ کے خلاف یہ ایک "ٹرمپ کارڈ” ہو سکتا ہے.

ب۔ ہندوستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر ہندوستان کی زبان بولنے سے انکار کا مطلب ہے کہ پاکستان اگر سمجھداری سے کام لے تو اسرائیل ہندوستان تعلقات کو اپنے خلاف "اسرائیل ہندوستان گٹھ جوڑ” بننے سے اب بھی روک سکتا ہے۔ یہ بہت اہم اسٹریٹجک کامیابی ہو گی۔

ج۔ سفارتی معاملات میں ٹائمنگ کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ اس وقت اسرائیل سے تعلق بنانے کی اہمیت ہے ۔۔۔۔ یعنی اس سے سفارتی فائدہ کی شرح اپنے عروج پر ہوگی، ورنہ 2019 تک تو قریباً سب مسلمان ممالک، خاص طور پر مشرق وسطی (وجہ اگلے نکتہ میں) تو اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے۔ اس وقت اس سے وہ حاصل نہیں ہو گا جو اب ہو سکتا ہے۔

د۔ تمام عرب و دیگر ممالک کی جانچ سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے بعد ایک بات تو طے ہوچکی کہ اب اسرائیل کی حیثیت "ناجائز بچے” کی نہیں رہی۔ دو ریاستوں میں سے ایک کا نام اسرائیل ہے اس لیے جلد یا بدیر سب ممالک ضمیر کی قید سے آزاد ہو کر یہ کام کر گزریں گے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ لازماً ہی کچھ کرنا ہے۔ معاملہ صرف اس قدر ہے کہ جو کرنا ہے نہایت سنجیدگی سے غور و فکر کے بعد کریں (یا نہ کریں) تاکہ وقت گزر جانے کے بعد کفِ افسوس ملنے کی گنجائش نہ ہو۔

تبصرے
Loading...