پاکستان ‏FETO کے خلاف ترکی کے ساتھ ہے، وزیر اعظم عمران خان کا 15 جولائی پر پیغام

0 3,739

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کے چار سال مکمل ہونے پر ایک مرتبہ پھر پاکستان کی بھرپور تائید اور ترکی کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان بدستور ترکی کے ساتھ کھڑا ہے اور گولن دہشت گروپ (FETO) سے درپیش خطرے سے نمٹنے کی کوشش میں مدد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہا ہے۔

ترکی میں جمہوریت و قومی اتحاد کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں عمران خان نے کہا کہ "چار سال پہلے ترک عوام نے ترکی کے امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ اس کے جمہوری اداروں کو ہدف بنانے والے ظلمت کے پیروکاروں کو شکست دینے کے لیے بھرپور جوابی وار کیا اور ناقابلِ یقین بہادری کا مظاہرہ کیا۔”

"15 جولائی 2016ء کو انسانی دلیری اور عزم کی جس داستان کو مشاہدہ ہوا وہ بلاشبہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے لیے متاثر کن تھی اور تاریخ کے اوراق میں یاد رکھی جائے گی۔”

ترکی میں بدھ کو FETO کی بغاوت کے ناکام ہونے کو چار سال مکمل ہو جائیں گے کہ جس میں 251 افراد شہید اور تقریباً 2,200 زخمی ہوئے تھے۔

ملک اس موقع پر جمہوریت اور قومی اتحاد کا دن مناتا ہے اور اس موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات میں ان شہداء کو یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے بغاوت کو ناکام بنانے کے لیے اپنی جان کے نذرانے کے پیش کی اور پوری قوم ان کی بہادری کو یادکرتی ہے۔

تحریکِ خلافت کو یاد کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 2016ء میں بھی ترکوں کا جذبہ ویسا ہی تھا کہ جس نے "ایک صدی پہلے ہمارے آبا و اجداد کو تحریک دی کہ وہ ترک بھائیوں کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔”

1918ء میں برصغیر کے مسلمانوں نے سلطنتِ عثمانیہ کو زوال سے بچانے کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ "ہم شہداء کو خراجِ تحسین اور ان کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں ترک عوام کے ساتھ ہیں۔ پاکستان اور ترکی شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور پاکستان گولن دہشت گرد گروپ سے درپیش خطرے سے نمٹنے میں ترکی کی ہرممکن مدد کر رہا ہے۔”

پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں کے اسپیکرز نے بھی علیحدہ بیانات میں اظہارِ یکجہتی کیا۔

جماعتِ اسلامی پاکستان کے سربراہ سراج الحق نے بھی بغاوت کی کوشش ناکام بنانے میں جانیں دینے والے 251 شہداء کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے بیان میں سراج الحق نے کہا کہ "ترکی نے صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں حکومت کے لیے عوامی تائید کی نئی مثال قائم کی ہے۔ موجودہ حکومت ہمارے ترک بھائیوں کی مدد سے اناطولیہ کی تاریخ کے بہترین ابواب تیار کر رہی ہے۔”

تبصرے
Loading...