پاکستان اور ترکی کے سفیروں کا دو طرفہ تجارت کو بہتر بنانے پر زور

0 113

پاکستان اور ترکی کے سفیروں نے دیگر شعبوں میں تعاون کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تجارت کو بہتر بنانے کے لیے بھی کام کرنے پر زور دیا ہے۔

وہ "پاک-ترکی تعلقات، تعاون بڑھانے کے مواقع” کے موضوع پر منعقدہ ایک ویبنار سے گفتگو کر رہے تھے کہ جس کا انتظام اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک مسلم انسٹیٹیوٹ نے کیا تھا۔

ترکی کے لیے پاکستان کے سفیر سائرس سجاد قاضی نے کہا کہ "گہرے سیاسی و ثقافتی تعلقات کے باوجود دو طرفہ تجارت 600 سے 800 ملین ڈالرز کے درمیان ہے، جو ہر گز متاثر کُن نہیں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ فروری میں صدر رجب طیب ایردوان کے دورۂ پاکستان میں دونوں ممالک نے تجارتی مسائل کو نئے اور جدید طریقوں سے حل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعمیرات، گھریلو مصنوعات، خدمات اور انفرا اسٹرکچر کے 100 ترک ادارے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔

ترکی اور پاکستان نے دو طرفہ تجارت، معاشی و ثقافتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مفاہمت کی مختلف یادداشتوں پر دستخط کیے۔

ترک سفیر برائے پاکستان احسان مصطفیٰ یرداکل نے کہا کہ وہ معاشیات کے شعبے میں دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ "ہم بہترین سیاسی تعلقات رکھتے ہیں لیکن معاشی تعلقات میں جو خلاء ہے اسے پُر کرنے کی ضرورت ہے۔ دفاع سمیت کئی شعبوں میں دونوں ممالک میں بہترین تعاون موجود ہے۔

ترکی کے اعلیٰ تعلیم کے نظام کے معیار پر زور دیتے ہوئے احسان مصطفیٰ نے کہا کہ ترک جامعات میں پاکستانی طلبہ کی تعداد مستقل بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے انقرہ اور اسلام آباد کے مابین بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ کوششوں پر بھی بات کی، اور کہا کہ دونوں ممالک دنیا میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے خلاف مل کر آواز اٹھا رہے ہیں۔ "ہم تعاون کی اس سطح پر بہت مطمئن ہیں۔”

چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی، سابق نائب سربراہ پاک بحریہ خان ہشام بن صدیق، ڈائریکٹر مڈل ایسٹ اسٹڈیز سینٹر ترکی پروفیسر احمد اوئسال، اسلام آباد میں مقیم دفاعی تجزیہ کار شبانہ فیاض، سابق سفیر عارف کمال اور دیگر نے بھی پاک-ترک تاریخی تعلقات پر بات کی۔

انہوں نے تعلیم، صحت، سیاحت، ثقافت، صنعت اور حلال اشیائے خورد و نوش کے شعبوں میں تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا۔

تبصرے
Loading...