پاکستان ترکی کو سی پیک منصوبوں میں شرکت کی دعوت دے گا، وزیر اعظم پاکستان

0 651

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ حالیہ امریکا-ایران کشیدگی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کی گئیں۔ "ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے کشیدگی گھٹانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور جنگ کا رُخ موڑ دیا ہے۔

انادولو ایجنسی کو دیے ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ لیکن حالات اب بھی کشیدہ ہیں اور مستقل حل کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

ترکی کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوان فروری کے وسط میں پاکستان کا دورہ کریں گے اور امید ہے کہ یہ دورہ اسلام آباد اور انقرہ کے برادرانہ تعلقات کو مزید استحکام بخشے گا۔

67 سالہ عمران خان کی حکومت نے حال ہی میں اقتدار کا ڈیڑھ سال مکمل کیا ہے۔ انادولو ایجنسی کو دیے گئے طویل انٹرویو میں انہیں نے درپیش چیلنجز اور مواقع کا ذکر بھی کیا۔

اس سوال پر کہ پاکستان اور ترکی کن دو شعبوں میں مل جل کر کام کر سکتے ہیں؟ عمران خان نے کہا کہ مسلمانانِ پاکستان ترکی کے ساتھ تاریخی تعلقات رکھتے ہیں، جن کی جڑیں تحریکِ خلافت سے جا ملتی ہیں کہ جو 1920ء میں شروع ہوئی تھی۔ اس تحریک کا مقصد ترکی کی مدد کرنا تھا جب اس پر چاروں طرف سے دشمن حملہ آور تھا۔ جب عثمانیوں پر بہت کڑا وقت تھا تو جو علاقے آج پاکستان میں ہیں، وہاں اور ہندوستان کے دیگر علاقوں کے مسلمانوں نے ترکی کی مالی طور پر مدد کی کوشش کی۔ گو کہ دونوں کا باہمی تعلق اس سے بھی پرانا ہے لیکن یہ ایک بہت بڑا قدم تھا کہ جسے ترک عوام آج تک سراہتے ہیں۔ تو دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کی بنیاد یہی ہے اور اب یہ تعلق حکومت کی سطح پر بھی ہے جو بہت قریبی تعلق ہے اور ہم اپنے تجارتی تعلقات کو بھی بہتر کر رہے ہیں۔ پاکستان کشمیر کے عوام کی حمایت پر ترکی کا شکر گزار ہے۔ کشمیر میں فسطائی و نسل پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے اقدامات پر صدر ایردوان کی جانب سے دیا گیا بیان بہت حوصلہ افزاء تھا۔ تو ہمارے تعلقات ہر ضمن میں مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم فروری کے وسط میں صدر ایردوان کے منتظر ہیں جو متعدد کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ پاکستان آ رہے ہیں۔ ہم پاکستانی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کی ترک اداروں کے ساتھ ملاقاتیں کروائیں گے۔ ایسے کئی شعبے ہیں کہ جہاں ترک پاکستان کی مدد کر سکتا ہے جیسا کہ کان کنی کا شعبہ۔ پاکستان معدنیات سے مالا مال ملک ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی دیگر شعبے ہیں۔ ہم مختلف شعبوں میں ترکی سے ٹیکنالوجی کی منتقلی چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ ایک بہت جامع دورہ ہوگا جس میں تزویراتی اور سفارتی تعلقات کے علاوہ ہر قسم کے معاشی تعلقات پر تبادلہ خیال ہوگا۔

پاکستانی وزیر اعظم نے عوام کے عوام سے رابطے بڑھانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے میں نے اپنے دونوں صاحبزادوں کے ساتھ جس جگہ اپنی آخری تعطیلات گزاریں وہ استانبول تھا۔ میرے دونوں بیٹوں کو یہ شہر بہت پسند آیا کیونکہ یہ دنیا کے تاریخی شہروں میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں دونوں کو وہاں لے کر گیا اور کئی دن گزارے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی سیاحت کے شعبے میں کافی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ فی الحال پاکستان سے ترکی جانے والے سیاح زیادہ ہے۔ ترکی میں سیاحت کی صنعت بہت ترقی یافتہ ہے لیکن پاکستان میں نہیں۔ پاکستان بہت رنگا رنگ ملک ہے۔ شمال سے جنوب تک یہاں مختلف موسم رکھنے والے علاقے موجود ہیں۔ یہاں مذہبی سیاحت ہے۔ یہاں دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک وادئ سندھ کی تہذیب ہے۔ اور پھر دنیا کے بڑے پہاڑوں میں سے چند پاکستان میں ہیں۔ تو یہ بہت مختلف ملک ہے اور ترکی کے عوام کو اس بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال ہم اپنی سیاحت کی صنعت کو بہتر بنا رہے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان نے اپنی حکومت کی ڈیڑھ سالہ کارکردگی، موسمیاتی تبدیلی، کشمیر کی صورتِ حال، بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، چین-امریکا تجارتی جنگ، افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات اور سی پیک کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ ترکی بھی سی پیک کے منصوبوں میں حصہ لے۔

تبصرے
Loading...